جمعہ، 17 جنوری، 2014

شنڈے کے مکتوب کی حیثیت آخری وصیت کے سوا کچھ بھی نہیں

شنڈے کے مکتوب کی حیثیت آخری وصیت کے سوا کچھ بھی نہیں
                                                                                                                                                                                               
                جب سے پارلیامانی انتخاب کی آہٹ سنائی دینے لگی ہے مسلمانوں سے سیاسی پارٹیوں کی زبانی ہمدردیاں بڑھ گئی ہیں اور انہیں ان کی خوش حالی اور ترقی کی فکر ستانے لگی ہے۔ ہر پارٹی یہ چاہتی ہے کہ اسے مسلمانوں کا ووٹ حاصل ہو، اس لیے سبھی پارٹیاں اپنے اپنے انداز میں انہیں لبھانے کی کوشش کرتی نظر آرہی ہیں اور ہر پارٹی انہیں یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ صرف وہی ان کی حقیقی بہی خواہ ہے اور وہی ان کے تمام مسائل کو حل کرسکتی ہے ۔ ملک میں مسلمانوں کے بے شمار ہی مسائل میں سر فہرست ان کے تحفظ کا مسئلہ ہے، انہیں دن رات اسی کی فکر ستاتی رہتی ہے جس کی وجہ سے انہیں دیگر مسائل پر توجہ دینے کی فرصت نہیں ملتی۔ اس لیے سیاسی پارٹیاں مختلف حربوں کا استعمال کرکے پہلے ان میں عدم تحفظ کے احساس بڑھاوادیتی ہیں اور پھر ان کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے ہر پارٹی دعوی کرتی ہے کہ وہی انہیں تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ جو جماعت انہیں سب سے زیادہ عدم تحفظ کا شکار بناتی ہے وہی سب سے زیادہ ان کے تحفظ کا دعوی بھی کرتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال کانگریس پارٹی ہے جس نے فسادات کے ذریعہ ہمیشہ مسلمانوں کی کمر توڑ ی اور انہیں کبھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل نہیں بننے دیا پھر یہی طریقہ دوسری پارٹیوں نے بھی اپنایا۔ فسادات کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے نام پر بھی مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کا رواج چل پڑا اور آج تو اسے سکہ رائج الوقت کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔ جہاں کہیں کو ئی بم دھماکہ ہوا بغیر کسی ثبوت کے مسلم نوجوانوں کی گرفتاریا شروع ہوجاتی ہیں اور پھر اس کو سچ کرنے کے لیے ثبوت تراشے جاتے ہیں جن میں بیشتر عدلیہ میں جاکر فرضی ثابت ہوجاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آئے دن دہشت گردی کے نام پر گرفتار مسلم نوجوان اپنی عمر کا بیش قیمت حصہ ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ کر عدلیہ سے بے گناہ ثابت ہوکر رہا ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود آج بھی ہزاروں بے قصور نوجوان دہشت گردی کے الزام میں قید وبند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں اور کوئی ان کا پرسان حل نہیں ہے۔ ملی تنظیموں اور ملک کے دیگر سیکولر اور انصاف پسند طبقہ کی جانب سے نہ جانے کتنی بار حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں پر قد غن لگائی جائے اور اصل مجرموں تک پہنچا جائے لیکن انہیں جھوٹے وعدوں کے سوا کچھ نہ ملا اور اب بھی بے قصوروں کی دھر پکڑ کا سلسلہ نہ صرف جاری ہے بلکہ اس میں مزید شدت آگئی ہے۔ یوپی اے کی دس سالہ حکومت میں جس طرح دہشت گردی کے نام پر بے قصور مسلم نوجوانوں کی زندگیاں تباہ کی گئی ہیں اس سے مسلمان یو پی اے اور اس کی سربراہ کانگریس سے بیزار ہوگئے ہیں جس کی ایک جھلک حالیہ اسمبلی انتخابات میں دیکھنے کو ملی ہے۔ چنانچہ کانگریس کو ایک بار پھر مسلمانوں کی فکر ستانے لگی ہے اور اس نے ان کے ساتھ اظہار ہمدردی کرنا شروع کردیا ہے۔
                چنانچہ مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے نے ایک پریس کانفرنس میں میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے تمام ریاستوں کے وزرائے اعلی کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اقلیتی فرقہ کے نوجوانوں کو گرفتار کرنے میں احتیاط سے کام لیں۔ حالانکہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس طرح کے خوش کن اعلانات وہ پہلے بھی کرتے رہے ہیں۔ گذشتہ سال مئی میں ملی تنظیموں اور سیکولر افراد کے دباؤ کے نتیجہ میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ دہشت گردی سے متعلق مقدمات کے لیے نیشنل سیکوریٹی ایکٹ کے تحت ۳۹؍ خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی۔ اس کے بعد ستمبر میں وزیر داخلہ نے تمام ریاستوں کے وزرائے اعلی کو ایک مکتوب بھیجا جس میں کہا گیا کہ تمام ریاستیں ہائی کورٹ کے مشورے سے ایسے مقدمات کے لیے خصوصی عدالتیں تشکیل دیں اور یہ یقینی بنائیں کہ کسی بے قصور شخص کو ہراساں نہ کیا جائے اور اگر کسی معاملہ میں اقلیتی فرقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی گرفتاری غلط ثابت ہوتو قصور وار پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی جائے، گرفتار کئے گئے بے گناہ لوگوں کو فورا رہا کیا جائے اور انہیں معقول معاوضہ دینے کے ساتھ ان کی باز آباد کاری بھی کی جائے۔ مذکورہ خط میں وزیر داخلہ نے واضح طور پر کہا تھا کہ ایسے بہت سے معاملات سامنے آئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولس نے مسلم فرقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو غلط طریقہ سے گرفتار کیا ہے جس کی وجہ سے اقلیتی نوجوانوں میں یہ احساس پیدا ہونے لگا ہے کہ انہیں ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کے جان بوجھ کر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اب تک کتنی خصوصی عدالتیں قائم کی گئیں اور ان سے بے قصور نوجوانوں کو کیا فائدہ حاصل ہوا اور نہ ہی یہ پتہ ہے کہ وزیر اعلی کے مکتوب سے ریاستی حکومتوں کی صحت پر کیا اثر پڑا۔ ہمیں صرف یہ معلوم ہے کہ حسب سابق گرفتاریوں کا سلسلہ نہ صرف جاری ہے بلکہ اس میں مزید تیزی آگئی ہے اور اصل مجرموں کو چھوڑنے اور بے قصوروں کی دھر پکڑ کے لیے پولس افسران کی پشت پناہی اور حوصلہ افزائی ہورہی ہے ۔ ایسے میں وزیر داخلہ کا حالیہ بیان فریب کے سوا کچھ نہیں ہے۔
                حقیقت تو یہ ہے کہ اس سلسلہ میں مرکزی حکومت کی نیت ہی صاف نہیں ہے۔ وہ نہیں چاہتی کہ مسلمان اس ملک میں آبرو مندانہ زندگی جینے کا حوصلہ پیدا کریں ورنہ آج مسلمانوں کی حالت اسی کی تشکیل کردہ کمیٹی کی رپورٹ سے مطابق دلتوں سے بدتر نہ ہوتی۔ اب یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات کون انجام دے رہا ہے اور یہ بھی کوئی راز نہیں ہے کہ پولیس افسران نہ صرف بغیر کسی ثبوت کے مسلمانوں کو گرفتار کرتے ہیں بلکہ بہت سے معاملات میں فرضی واقعات میں ان کی گرفتاری عمل میں لائی جاتی ہے۔ ایسے کئی معاملات سامنے آئے ہیں جن میں عدالتوں نے نہ صرف گرفتار شدگان کو رہا کیا ہے بلکہ یہ بھی بتایا ہے کہ جس واقعہ کی بنیاد پر بے قصوروں کو گرفتار کیا گیا وہ واقعہ سرے سے ہوا ہی نہیں اور اس بنیاد پر پولس والوں کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا حکم بھی جاری کیا۔ دہلی کی ایک عدالت نے ایسے ہی ایک فرضی مقدمہ میں بے قصور مسلم نوجوانوں کو رہا کرتے ہوئے اپنے فیصلہ میں لکھا تھا کہ ’’انکاؤنٹر کی کہانی بڑی چالاکی کے ساتھ دلی پولیس کے دلی اسپیشل اسٹاف کے دفتر میں اس کے خاص مصنف سب انسپکٹر رویندر تیاگی اور اس کے معاونین کے ذریعہ لکھی گئی ہے۔ ‘‘اسی طرح بھگوا دہشت گردی کے کھل کر سامنے آجانے کے باوجود اس کے خلاف کارروائی میں تیزی نہ لانا بھی مرکزی حکومت کی نیت کے فتور کا ثبوت ہے۔ وزیر داخلہ سے یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ ریاستوں کو ان کے ذریعہ بھیجے گئے مکتوب کی قانونی حیثیت کیا ہے کیونکہ لا اینڈ آرڈ ر ریاستی معاملہ ہے اور مخصوص حالات کو چھوڑ کر مرکز اس میں مداخلت کا مجاز نہیں ہے۔ شاید اس کے ذریعہ وہ یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مرکزی حکومت نے تو بے قصوروں کی گرفتاریوں پر روک لگانے کی کوشش کی لیکن ریاستی حکومتوں نے تعان نہیں کیا ۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ جن ریاستوں میں کانگریس کی حکومت ہے وہاں اس پر کس قدر عمل ہوا۔ مہاراشٹر اور دلی میں لگا تار کانگریس اقتدار میں رہی اور ان دو ریاستوں کی پولس نے جس طرح دہشت گردی کے نام پر مسلم نوجوانوں کی زندگی تباہ کی اس میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ مہاراشٹر اے ٹی ایس اور دلی پولس اسپیشل سیل نے دیگر ریاستوں میں جاکر جو ہنگامہ خیزی کی ہے کیا اس کے لیے کانگریس ذمہ دار نہیں ہے ۔ کیا وزریر داخلہ کو اس بات کا جواب نہیں دینا چاہیے کہ مہاراشٹر میں مسلمان مجموعی آبادی کا ۱۵؍ فیصد ہیں تو جیلوں میں ۳۷؍ فیصد کیوں ہے۔ گذشتہ دس برسوں کے دوران مہاراشٹر اور دلی میں کانگریس کی حکومت رہی ہے اور سب سے زیادہ گرفتاریاں بھی انہیں دونوں ریاستوں میں ہوئی ہیں تو اس کیا جواب ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اس مدت میں خود مسٹر شنڈے بھی مہاراشٹر کے وزیر اعلی رہ چکے ہیں۔ کیا وزیر داخلہ کے پاس اس سوال کا کوئی جواب ہے کہ عشرت جہاں اور صادق جمال مہتر انکاؤنٹر میں سازش رچنے والے آئی بی افسران راجیندر کمار، سدھیر کمار، یش وردھن آزاد او رگرو راج وغیرہ کو کیوں بچایا گیا ۔ کیا ہمیں اس سوال کا جواب نہیں ملنا چاہیے کہ مالے گاں بم دھماکہ میں ہندو ملزمین کے خلاف چارج شیٹ داخل ہونے کے باوجود اس الزام میں پہلے سے گرفتار بے قصور مسلم نوجوان ابھی تک عدالتوں کے چکر کیوں کاٹ رہے ہیں۔ کیا ہمین یہ جاننے کا حق نہیں ہے کہ پٹنہ دھماکہ کے بعد مسلم نوجوانوںکو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تو کروڑوں روپے کے ٹرانزکشن کے سرغنہ گوپا کمار گویل اور اس کے ساتھی وکاس کمار ، پون کمار اور گنیش ساہو اور بنگلور سے گرفتار عائشہ اور زبیر کو جو اصل میں دنیش اور سنیتا ہیں ؛دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے پیسہ پہنچانے کے پختہ ثبوت کے باوجود دہشت گردی کا ملزم کیوں نہیں بنایا گیا۔ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب پائے بغیر مسلمان کانگریس سے مطمئن نہیں ہوسکتے۔
                کانگریس کی بد نیتی کا بد ترین ثبوت راہل گاندھی کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے کہا تھاکہ پاکستانی دہشت گرد تنظیمیں فساد زدہ نوجوانوں کے رابطہ میں ہیں جس پر کافی واویلا مچا تھا اور خفیہ ایجنسیوں نے ہریانہ سے دو ائمہ کو گرفتار کر ک راہل کے اس بیان کی تصدیق کردی۔ اس کی بد نیتی کا ثبوت یہ بھی ہے کہ کانگریس کے جنرل سکریٹری شکیل احمد نے انڈین مجاہدین کو گجرات فساد کے رد عمل میں پیدا ہونے والی تنظیم قرار دے کر اس نام نہاد فرضی تنظیم کے اصلی ہونے کی تصدیق کردی۔ حالانکہ آج تک کوئی ایجنسی اس کی حقیقت ثابت نہ کرسکی۔ مرکزی وزیر داخلہ کے حالیہ مکتوب کا سب سے مضحکہ خیز بلکہ بد نیتی پر محمول وہ حصہ ہے جس میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ اقلیتوں سے ان کی مراد کسی خاص کمیونٹی سے نہیں ہے۔ یہ وضاحت ان کے فرقہ پرست عناصر سے خوفزدہ ہونے کی دلیل ہے کہ ان پر مسلم نوازی کا الزام نہ لگے۔ سوال یہ ہے کہ اگر بے قصور گرفتار شدگان میں ۹۰؍ فیصد کا تعلق مسلمانوں سے ہے تو ان کا نام لینے میں شرم کیوں محسوس ہوئی۔ کیا وہ باغبان بھی خوش رہے ، راضی رہے صیاد بھی‘ کے نظریہ پر عمل پیرا نہیں ہیںَ یہ وہی وزیر داخلہ ہیں جنہوں نے بھگوا دہشت گردی کے پختہ ثبوت ہونے کی بات کہنے کے بعد فرقہ پرست عناصر کے دباؤ میںآکر معافی مانگ لی تھی۔ کانگریس اگر مخلص ہوتی تو اپنے دس سالہ دور اقتدار میں اس صورتحال پر قابو پاسکتی تھی لیکن اس نے اس کی بجائے نام نہاد دہشت گردی کے خلاف نت نئے سیاہ قوانین بناکر بے قصور مسلمانوں کی گرفتاری کے لیے پولیس کو چھوٹ دی او اس کی حوصلہ افزائی کی۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ مرکزی حکومت مسلمانوں کے لئے جن نیک خواہشات کا اظہار کر رہی ہے اور جو وعدے کر رہی ہے ان پر عمل در آمد کب ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان وعدوں کی تکمیل کے لیے اسے ایک بار پھر اقتدار سونپنا ہو گا ۔ لیکن پھر بھی یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ اگر اقتدار مل بھی جائے تو اس کی کیا ضمانت ہے کہ وعدوں کی تکمیل بھی ہوگی۔ لہٰذا وزیر داخلہ کے مذکورہ مکتوب کی حیثیت جانے والے کی آخری وصیت سے زیادہ اہمیت نہیں ہے۔ اس لیے کانگریس مسلمانوں کو سبز باغ نہ دکھائے اور اگر واقعی وہ مخلص ہے تو الیکشن میں جانے سے قبل کم از کم انسداد فرقہ وارانہ تشدد بل منظور کر کے اس کا ثبوت پیش کرے۔


منگل، 14 جنوری، 2014

آتش بازی کا عالمی ریکارڈ

آتش بازی کا عالمی ریکارڈ
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے



۲۰۱۴ءکا سال مسلم ممالک کے لئے اس لحاظ سے بے حد ناسازگار رہا کہ اس میں ان ممالک بطور خاص مشرق وسطیٰ میں حالات بیحد ہنگامہ خیز رہے ۔ فلسطین ، مصر ، شام، پاکستان، بنگلہ دیش،میانمار ہر جگہ انہیں اپنی نادانیوں کی سزا اور غیروں کی سازشوں کی مار جھیلنی پڑی اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے ۔ ۴۱۰۲ءبھی ان کے لئے کسی خوش خبری کی نوید لے کر نہیں آیا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ بعض استثنا کے ساتھ ان ممالک کے سربراہوں کو شاید اس بات کا احساس نہیں ہے ، دولت کی ریل پیل نے انہیں اندھا کر دیا ہے اور وہ نوشتہدیوار پڑھنے سے قاصر ہیں۔ قارئین تک یہ اطلاع پہنچ چکی ہے کہ مسلم ملک دبئی نے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے اوریہ ریکارڈ ہے آتش بازی کا ۔ نئے سال کے آغاز کے لمحے کے ساتھ ہی دبئی نے ۵ لاکھ سے زائد پٹاخوں کی مدد سے زبردست اور حیران کن آتش بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے ۔ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈس میں یہ اعتراف کیا گیاہے کہ آتش بازی کی تاریخ میں ایسا مظاہرہ دنیا میں کہیں نہیں ہوا۔ اس کی منصوبہ بندی گذشتہ دس ماہ سے کی جارہی تھی ۔ آتش بازی کا سب سے زیادہ متاثر کن مظاہر ہ ساحل پر ایک مصنوعی طلوع آفتاب کا منظر پیدا کرتے ہوئے کیا گیا ۔ فضاں میں جاکر روشنی کے ساتھ پھٹ پڑنے والے پٹاخوں کی بلندی ایک کیلو میٹر سے زائد تھی ۔ اس سے قبل یہ عالمی ریکارڈ قائم کرنے کا شرف بھی امریکہ یا یورپ کو حاصل نہیں ہوا بلکہ ایک اور مسلم ملک کویت نے ۲۱۰۲ءمیں اپنی سالگرہ تقریب میں یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔ واضح رہے کہ اس کا ڈیزائن امریکی کمپنی فائر ورکس بائی گروسی نے تیار کیا تھا ع حیراں ہوں دل کو رو ں کہ پیٹوں جگر کو میں
                اس وقت عالم اسلام جس صورت حال سے دوچار ہے اور دنیا بھر میں مسلمانوں کو جن شدائد و مصائب کا سامنا ہے ایسے میں کیا کسی مسلم ملک کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اللہ کی عطا کردہ دولت کو جھوٹی شان کا مظاہرہ کرنے میں لٹائے ۔ یہ ذہنی افلاس کی انتہا ہے کہ جب دنیا ستاروں پر کمندیں ڈال چکی ہے اور تسخیر کائنات کی منصوبہ بندی کر رہی ہے مسلم ممالک آتش بازی کے ریکارڈ قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور پھل جھڑیاں چھوڑ رہے ہیں۔ جن کے اسلاف نے دنیا کو تہذیب و تمدن سکھایا ، علوم و فنون سے مالا مال کیا ، جینے کا ہنر سکھایا ، جہاں بانی کاسلیقہ بتایا ، اپنے علمی تفوق سے دنیا پر اپنی عظمت کا سکہ بٹھایا ، آج ان کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ انہیں اپنے مقام و مرتبہ کا بھی احساس نہیں رہا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دولت کی ریل پیل اور وسائل کی کثرت کے باوجود عالمی منظر نامہ پر ان کے وجود کی کوئی حیثیت نہیں رہ گئی ہے اور وہ بہت سی بنیادی ضروری اشیاءکے ساتھ ساتھ سامان عشرت تک کے لئے مغرب کے محتاج بن گئے ہیں۔ ان کا سرمایہ عیش و نشاط اور نمود و نمائش میں صرف ہورہا ہے ۔ جن کے آباءو اجداد نے ایجادات و اختراعات میں ریکارڈ قائم کیا وہ تفریح و عیش پرستی کا ریکارڈ قائم کر رہے ہیں جنہیں اقوام عالم کی امامت کرنی تھی وہ آخری صف کے مقتدی بنے بیٹھے ہیں اور حد تو یہ ہے کہ ان کے اندر سے احساس زیاں بھی مفقود ہوگیا ہے ۔ ان کے اندر یہ احساس بالکل باقی نہیں رہا کہ ان کی حیثیت کیا تھی اور وہ آج کس مقام پر پہنچ گئے ہیں ۔ انہیں اس بات کا شعور نہیں کہ عظمت رفتہ کیسے حاصل کی جائے اور اپنی دولت و صلاحیت سے کیسے دنیا کو فیض پہنچایا جائے ۔ عالم اسلام کے پاس مادی وسائل کی کمی نہیں ہے ، دنیا کا ایک چوتھائی بری حصہ اس کے قبضہ میں ہے ، زرعی اور معدنیاتی لحاظ سے بھی مالا مال ہے ۔ دولت ، صلاحیت ، اہلیت ، افرادی قوت سب کچھ موجود ہے لیکن مقام عبرت ہے کہ ان سب کے باوجود وہ دنیا میں سر اٹھاکر جینے کے لائق نہیں ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اللہ نے اسے جس دولت و حکومت سے نواز ا ہے اسے امانت سمجھتے ہوئے اس کا استعمال علوم و فنون کی ترقی کے ساتھ ساتھ مظلوموں کی حمایت ، انسانیت کی فلاح اور خدمت خلق کے میدانوں میں کیا جاتا جس سے نہ صرف اقوام عالم میں اس کی ساکھ بہتر ہوتی بلکہ یہ تبلیغ دین کا بھی بہترین وسیلہ ہوتا لیکن ہویہ رہا ہے کہ اس کا استعمال اپنے ہی بھائیوں کی گردنیں اڑانے یا جھوٹی شان و شوکت کا مظاہرہ کرنے کے لئے کیا جارہا ہے ۔ مسلمانوں نے اپنے شاندار ماضی سے کوئی سبق نہیں لیا ورنہ اس وقت اقوام عالم کی قیادت و سیادت ان کے ہاتھوں میں ہوتی ۔ علوم و فنون سے پہلو تہی کرکے دنیا میں کوئی قوم سر اٹھاکر نہیں جی سکتی ۔ آج سائنس اور ٹکنالوجی سے منہ موڑ کر آبرومندانہ زندگی جینے کا تصور بھی ممکن نہیں ہے ۔ مسلمانوں کو اس وقت تک عزت و وقار حاصل رہا جب تک انہوں نے علوم و فنون سے اپنا رشتہ استوار رکھا اور دنیا کو اپنی خدمات سے فیض پہنچاتے رہے لیکن جب اس سے آنکھیں چرالیں تو وسائل کی کثرت کے باوجود محکوم بن گئے اور جن قوموں نے اسے اپنایا انہیں خود بخود دنیا کی قیادت حاصل ہوگئی۔کچھ عرصہ قبل یورپ کے ایک معروف مورخ چارلس گیلسپی نے ان سائنسدانوں کی فہرست مرتب کی تھی جنہوں نے ساتویں صدی سے پندرہویں صدی تک سائنس کو فروغ دیا اور اس طرح موجودہ سائنسی انقلاب کی بنیاد رکھی ۔ اس فہرست میں ۲۳۱ سائنسدانوں کے نام شامل ہیں جن میں ۵۰۱ کا تعلق مسلم دنیا سے ہے۔ گویا عہد وسطی میں دنیا کے نوے فیصد سائنسداں عالم اسلام سے تعلق رکھتے تھے ۔ لیکن جب مسلمانوں نے اس سے بے اعتنائی برتی تو وہ کہاں پہنچ گئے اس کا اندازہ اس سروے سے بخوبی ہوجاتا ہے ۔ ۱۸۹۱ءکے ایک سروے کے مطابق چھوٹے سے ملک ناروے کے سائنسدانوں ، انجینئروں اور ڈاکٹروں کی کل تعداد پوری اسلامی دنیا کے سائنسدانوں ، انجینئروں اور ڈاکٹروں سے کچھ زیادہ ہی تھی ۔ یہ تعداد جاپان کے کل سائنسدانوں کے نصف سے بھی کم تھی ۔
                جو قوم عیش و عشرت اور جھوٹی شان و شوکت کے مظاہر ہ پر اربوں کھربوں خرچ کر ڈالے اسے زوال سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ آج صورت حال یہ ہے کہ مسلمان پوری دنیا میں سنگین مسائل سے دوچار ہیں ۔ اپنی شامت اعمال کے نتیجہ میں جہالت ، مفلسی ، پسماندگی ، انتشار اور محکومی ان کا مقدر بن گئی ہے ۔ نااتفاقی کا یہ عالم ہے کہ آپس میں خونریز جنگیں لڑی جاتی ہیں اور ان کے لئے بھی یورپ اور امریکہ سے ہتھیار خریدا جاتا ہے۔ جب ہم مسلمانوں کے زوال کے اسباب کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہماری سوچ اغیار کی سازش اور اسلام دشمنوں کی فتنہ پروری کے گرد ہی گھومتی ہے اور ہمیں اپنی کمیوں کا احساس و ادراک نہیں ہوتا ہے ۔ اس سے بڑا اور المیہ کیا ہوسکتا ہے کہ جس قوم کو اللہ نے تمام قسم کے وسائل سے نواز ا ہو وہ اپنی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے بھی دوسروں کی دست نگر بنی رہے۔ کہنے کو تو چار درجن سے زائد چھوٹی بڑی مسلم حکومتیں ہیں لیکن وہ اپنے تحفظ کے لئے مکمل طور پر مغرب پر منحصر ہیں ۔ انہیں نہ اپنی کوتاہیوں کا احساس ہے اور نہ اپنے خلاف ہونے والی سازشوں کا ادراک ۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ اپنی دولت کی قدر و قیمت کو سمجھتے جس سے نہ صرف ان کا اپنا وجود محفوظ رہتا بلکہ دوسرے بھی ان کے دامن عافیت میں پناہ لیتے ۔ آج مسلم ممالک کو ان کی غفلت اور کوتاہیوں نے اس مقام پر لاکھڑا کر دیا ہے جہاں سب کچھ ہونے کے باوجود وہ خود کفیل نہیں بن سکے اور ایک طرح سے امریکہ کے محتاج اور تابعدار بن کر رہنے پر مجبور ہیں اور وہ انہیں یہ احساس دلانے میں کامیاب ہوگیا ہے کہ انہیں اپنے تحفظ کے لئے اس کی ضرورت ہے ۔ امریکہ نے پوری طرح ان پر اپنا تسلط قائم کر لیا ہے اور وہ مطمئن ہیں کہ ان کی سلامتی اور تحفظ کی ضمانت دنیا کے سپر پاو ر نے لے رکھی ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اگر امریکہ کو اپنے مفاد کی تکمیل میں رکاوٹ محسوس ہوئی تو اسی کے ذریعہ جمہوریت کے نام پر ان حکمرانوں کے تاج اچھالے جائیں گے جس کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ۔ اس لئے یہ ضروری ہوگیا ہے کہ مسلم ممالک نوشتہدیوار پڑھ لیں اور اللہ نے انہیں جو دولت عطا کی ہے اس کا صحیح استعمال کرتے ہوئے خود کو اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو سر اٹھاکر جینے کا موقع فراہم کریں ۔ ان کی بھلائی اسی میں ہے کہ جس قدر ممکن ہو امریکہ اور یورپ پر انحصار ختم کرکے خود کفیل بننے کی کوشش کریں۔ اگر دوسری جنگ عظیم کے موقع پر پورے طور پر تباہ ہوچکے جاپان اور جرمنی ترقی کر سکتے ہیں تو یہ کیوں نہیں کر سکتے ۔ اپنی دولت کو اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کے لئے خرچ کریں ۔ مسلمان سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں مغربی اقوام سے نہ صرف بہت پیچھے ہیں بلکہ ان کی نقالی کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہیں ۔ کیا بہتر ہوتا کہ وہ دولت جو عشرت سامانیوں اور جھوٹی نمائشوں پر خرچ کی جارہی ہے ان کے ذریعہ سائنس اور ٹکنالوجی کے اعلیٰ ترین مراکز کا قیام عمل میں لایا جاتا ۔ اطلاعاتی عسرت اور ابلاغی غربت مسلمانوں کے ماتھے کا بد نما داغ ہے جب کہ آج کے دور میں اس کے بغیر ترقی کا خواب بھی نہیں دیکھا جاسکتا ۔ اگر دولت کا صحیح استعمال کیا جائے تو مسلمانوں کے ماتھے سے یہ داغ بآسانی دھل سکتا ہے ۔ یوں بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کئے جارہے حملوں اور پروپیگنڈوں کا جواب دینے کے لئے یہ بیحد ضروری ہے ۔ مسلمانوں کے پاس مادی وسائل کے علاوہ سب سے مضبوط چیز ان کا نظریہ ہے ۔ اگر انہیں اس کی قدر و قیمت کا احساس ہوجائے اور وہ تقاضائے وقت کے مطابق سائنس او ر ٹکنالوجی کو تعمیر انسانیت کے لئے استعمال کریں تو مغربی طاقتوں کو اپنے آگے گھٹنوں کے بل جھکا سکتے ہیں ۔
                آج جب دنیا ہر روز ترقی کے نئے باب لکھ رہی ہے ، مسلمان اس سے بے پروا اپنی دولت اور اپنا سرمایہ فضولیات میں صرف کر رہے ہیں ۔ وہ یا تو آپسی جنگ و جدال میں مصروف ہیں یا عیش و نشاط میں مشغول ہیں اور یہ فرد سے لے کر جماعت اور حکومتوں تک کا یکساں رویہ ہے ۔ خود ہمارے ملک میں مسلمان جھوٹی شان و شوکت کے مظاہروں میں جتنی دولت خرچ کرتے ہیں شاید اس کا نصف بھی تعمیری کاموں میں صرف نہیں ہوتا ۔ ابھی چند ماہ قبل بہار کے ایک مسلم ممبر اسمبلی نے اپنی شادی میں چند کیلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے لئے ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا ۔ ہماری قوم کا مزاج یہ ہے کہ جو لوگ اپنے بچوں کی تعلیم کے لئے حیثیت کے باوجود خرچ کرنا گوار ا نہیں کرتے وہ ان کی شادیوں میں نمائش کے لئے سود لینے او رزمینیں بیچنے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ باہمی اختلاف ہمارا طرئہ امتیا زہے اور بے عملی ہمارا جوہر ۔ ان حالات میں عزت و وقار کی زندگی کے خواب دیکھنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے ۔ مسلمانوں کے لئے عظمت رفتہ کی واپسی کی واحد صورت یہی ہے کہ وہ علوم و فنون سے اپنا رشتہ مضبوط کریں ، اپنے اندر اتحاد پیدا کریں ، اپنی دولت ، سرمایہ اور توانائیوں کو فضولیات میں خرچ کرنے کی بجائے تعمیری کاموں میں لگائیں او ر تمام اختلافات کو مٹاکر ایک امت کا تصور پیدا کریں ۔ یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اگر اللہ کی دی ہوئی دولت کی ناقدری کی جاتی ہے تو وہ وبال جان بن جاتی ہے ۔ 

بدھ، 1 جنوری، 2014

ہر چہ در کان نمک رفت نمک شد

ہر چہ در کان نمک رفت نمک شد
افواہوں کے پھیلنے کی رفتار صحیح خبروں سے زیادہ تیز ہوتی ہے اور ترسیل وابلاغ کے جدید ذرائع نے اسے اور آسان بنادیا ہے چنانچہ تجارت سے لے کر سیاست اور صحافت تک ہر میدان میں افواہ پھیلانے اور بد امنی پیدا کرنے کے لیے ان کا استعمال کیا جارہا ہے۔
 افواہ پھیلانے کا کام محض شر پسند عناصر ہی نہیں کرتے بلکہ اس سلسلہ میں ہمارا با وقار قومی میڈیا سب سے آگے ہے ۔ میڈیا میں فسادات سے لے کر دہشت گردانہ واقعات تک کی رپورٹنگ جس انداز میں کی جاتی ہے اور جس طرح حقائق کو نظر انداز کیا جاتا ہے اس کی مثال کہیں اور نہیں مل سکتی۔ ایک خاص فرقے کے خلاف اخبارات میں ایسے ایسے من گھڑت افسانے شائع کئے جاتے ہیں کہ الامان و الحفیظ ۔ جہاں جمہوریت کے چوتھے ستون کا یہ عالم ہو وہاں بے ایمان تاجروں اور منافع خوروں کے ذریعہ قلت نمک کی افواہ نہ بعید از قیاس ہے نہ حیرت انگیز۔
                                                                                                                         
                چند دنوں قبل بہار میں بڑے ہی منظم انداز میں یہ افواہ پھیلائی گئی کہ ریاست میں نمک کی قلت پیدا ہوگئی ہے ۔ اس لئے نمک مہنگا ہورہا ہے۔ دیکھتے ہیں دیکھتے دوکانوں پر بھیڑ لگنے لگی اور جسے جتنی مقدار میں نمک ملا خریدنے لگا اور پھر جلد ہی بازار سے نمک غائب بھی ہوگیا اور تاجروں نے نمک کی ذخیرہ اندوزی کرلی۔ نمک کی قیمت میں بھی اضافہ ہوگیا اور ۸۰؍ سے ۱۰۰؍ روپے کیلو تک نمک کی فروخت ہوئی ۔ اس افواہ کا اثر شمالی مشرقی ریاستوں تک ہوا۔ شکر ہے کہ حکومت فوراً حرکت میں آگئی جس کی وجہ سے جلد ہی افراتفری کا ماحول ختم ہوگیا۔ اس سلسلہ میں ریاست بھرمیں۲۱؍ افراد گرفتار کئے گئے اور ۱۵ ؍مقدمات درج کئے گئے۔
                قلت نمک کی افواہ منافع خور تاجروں کی منظم سازش ہوسکتی ہے کیونکہ اتنے بڑے پیمانہ پر ایسی افواہ بغیر منصوبہ بندی کے نہیں پھیلائی جاسکتی ۔ ایسے ماحول میں جہاں زندگی کا مقصد محض دولت حاصل کرنا رہ گیا ہو، کچھ بھی ممکن ہے۔ یوں بھی ہمارے یہاں تجارت میں ایمانداری کے علاوہ سب کچھ جائز ہے۔ اس وقت مہنگائی جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اس کا سبب پیداوار میں کمی نہیں بلکہ منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کی یہی ذہنیت ہے۔ اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کی وجہ سے ہی شاید لوگوں نے بآسانی اس افواہ پر یقین بھی کرلیا۔اس افواہ پر یقین کرنے میں پیاز کی مہنگائی بھی ایک اہم وجہ رہی۔ حالانکہ پیازبھی جس طرح سے ملک بھر میں مہنگی ہوئی اور اب بھی اس کی قیمت معمول پر نہیں آسکی ہے، اس میں بھی ذخیرہ اندوزی اور افواہ کے اثر سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ اس کا جواز یہ بھی ہے کہ پچھلی مرتبہ اقتدار سے بی جے پی کی بے دخلی کا سبب پیاز کی قیمت میں اضافہ رہا تو عین ممکن ہے کہ منصوبہ بند طریقے سے پیاز کی ذخیرہ اندوزی کر کے یہ افواہ گشت کرائی گئی ہو اور پھر نمک پر بھی اس کا تجربہ کیا گیا ہو۔ بہر حال قلت نمک کی افواہ کا سبب کچھ بھی ہو ، اس پورے واقعہ سے ایک بات بہت واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ ہمارے ملک میں افواہ پھیلا کر بد امنی اور انتشار پیدا کرنا کتنا آسان کام ہے۔ افواہوں کے پھیلنے کی رفتار صحیح خبروں سے زیادہ تیز ہوتی ہے اور ترسیل وابلاغ کے جدید ذرائع نے اسے اور آسان بنادیا ہے چنانچہ تجارت سے لے کر سیاست اور صحافت تک ہر میدان میں افواہ پھیلانے اور بد امنی پیدا کرنے کے لیے ان کا استعمال کیا جارہا ہے۔ قارئین اچھی طرح واقف ہیں کہ مظفر نگر میں رونما ہونے والے فسادات بھی افواہ ہی کے نتیجہ میں پھیلے ۔ بی جے پی لیڈران کی اشتعال انگیز تقریروں کے علاوہ سوشل میڈیا کے ذریعہ نقلی ویڈیو کی تشہیر نے جلتی پر گھی کا کام کیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دو ماہ قبل ہونے والے فسادات کی چنگاری اب بھی سرد نہیں ہوئی ہے اور افواہ کی تھوڑی سی ہوا بھی اس چنگاری کو شعلہ میں بدل دیتی ہے۔ اس افواہ کے نتیجہ میں سیکڑوں جانیں گئیں ، لاکھوں بے گھر ہوگئے ، ان کے مکانات کو جلادیا گیا اور اراضی پر قبضہ کر لیا گیا ۔ اب بھی ہزاروں افراد پناہ گزیں کیمپوں میں کس مپرسی کی زندگی گزار رہے ہی اور خوف کے مارے اپنے گھروں کو واپس جانے کو تیار نہیں ہیں۔ افواہ پھیلانے کا کام محض شر پسند عناصر ہی نہیں کرتے بلکہ اس سلسلہ میں ہمارا با وقار قومی میڈیا سب سے آگے ہے ۔ میڈیا میں فسادات سے لے کر دہشت گردانہ واقعات تک کی رپورٹنگ جس انداز میں کی جاتی ہے اور جس طرح حقائق کو نظر انداز کیا جاتا ہے اس کی مثال کہیں اور نہیں مل سکتی۔ ایک خاص فرقے کے خلاف اخبارات میں ایسے ایسے من گھڑت افسانے شائع کئے جاتے ہیں کہ الامان و الحفیظ ۔ جہاں جمہوریت کے چوتھے ستون کا یہ عالم ہو وہاں بے ایمان تاجروں اور منافع خوروں کے ذریعہ قلت نمک کی افواہ نہ بعید از قیاس ہے نہ حیرت انگیز۔
                ملک کے مسلمان سماجی ، معاشی اور سیاسی طور پر کتنے ہی پسماندہ کیوں نہ ہوں لیکن انہیں بزعم خود اپنے کردار کی بلندی کا دعوی ہے اس لئے کہ ان کی وابستگی ایسے مذہب سے ہے جس میں کردار کی بڑی اہمیت ہے۔ لیکن افواہ کے اس بہاؤ میں وہ بھی بہہ گئے۔ نہ صرف بہہ گئے بلکہ بہتی گنگا میں ہاتھ بھی دھویا۔ یعنی افواہوں پر یقین کرنے میں نہ مسلمان پیچھے رہے نہ غیر مسلم ۔ اسی طرح نمک کو مہنگے داموں میں فروخت کرنے میں بھی مکمل قومی یکجہتی کا ثبوت دیا گیا ۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اولا مسلمان اس افواہ پر یقین ہی نہیں کرتے کیونکہ ان کے مذہب کی تعلیم یہ ہے کہ خبروں کو پھیلانے سے پہلے اس کی تصدیق کر لی جائے۔ اس کی تعلیمات میں یہ بھی شامل ہے کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنی بات کافی ہے کہ وہ جو کچھ سنے اسے بیان کردے ۔ جبکہ منافع خوری اور ذخیرہ اندازی اس مذہب میں حرام قرار دیئے گئے ہیں اور ایسا کرنے والوں کے لیے سخت وعیدیں ہیں۔ ان سب کے باوجود مسلماوں نے بھی وہی کیا جو سبھوں نے کیا۔ حتی کہ اس معاملہ میں عالم وجاہل کی تمیز بھی نہ رہی۔
                مسلمانوں اور دوسرے مذاہب کوتسلیم کرنے والوں کے درمیان فرق صرف مراسم عبودیت میں رہ گیا ہے جبکہ اخلاق ومعاملات میں سب یکساں ہیں ۔ حالانکہ ہر معاملہ میں مسلمانوں کی امتیازی شان ہونی چاہیے۔ زیادہ عرصہ نہیں گذرا جب عام طور سے لوگ کہتے تھے کہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا لیکن اب مسلمانوں کی کسی بات پر یقین کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ پہلے غیر مسلم اپنی امانتیں مسلمانوں کے پاس رکھتے تھے لیکن اب یہ اعتماد بھی باقی نہ رہا۔ اخلاق و معاملات کی وہ کون سی خرابی ہے جو مسلمانوں میں موجود نہیں ہے۔ ہم مسلمانوں
کی پسماندگی کے اسباب کا تجزیہ کرنے بیٹھتے ہیں تو ہمیں بے شمار اسباب نظر آتے ہیں لیکن جس اہم سبب کی طرف ہماری نظر نہیں جاتی وہ در اصل یہی کردار کی خرابی ہے۔ کردار کی عظمت ہی انہیں دونوں جہاں میں سر خروئی سے سر فراز کرسکتی ہے۔ یہ سرا ہاتھوں سے نکل گیا تو ساری خرایباں آگئیں ا ور آج صورتحال یہ ہے کہ وہ ہر میدان میں پسماندگی کے شکار ہیں اور انہیں سچر کمیٹی کا آئینہ دکھایا جارہا ہے۔ اس وقت ملک میں جس طرح مسلمانوں کے خلاف پروپگنڈہ مہم جاری ہے اور انہیں غیر مہذب ، غیر روادار یہاں تک کہ دہشت گرد کے طور پر پیش کیا جارہا ہے اور ان کے خلاف نفرت کی جو آگ بھڑکائی جارہی ہے، مسلمان اپنے کردار کی بلندی سے ہی ان پر قابو پاسکتے ہیں۔ یہی وہ شاہ کلید ہے جس سے ان کی تعمیروترقی کے تمام بند دروازے وا ہوسکتے ہیں۔ اس سے صرف نظر کر کے جو کوشش ہوگی وہ بار آور نہیں ہوگی کیونکہ ع خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی۔
٭٭٭

ہفتہ، 28 دسمبر، 2013

پٹنہ بم دھماکہ اور مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں

پٹنہ بم دھماکہ اور مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں
سوال صرف گرفتاریوں پر نہیں ‘دھماکوں پر بھی اٹھ رہے ہیں

                فسادات اور دہشت گردی کے دو پاٹوں کے درمیان پس رہے مسلمانوں کی آزمائشوں کا سلسلہ ختم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی جارہا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی دوسری بڑی اکثریت کے ساتھ آزادی کے بعد سے ناروا سلوک کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ نہ صرف ہنوز جاری ہے بلکہ اس میںمزید شدت آگئی ہے۔ کہنے کو تو یہاں آئین کی حکمرانی ہے جو بلا تفریق مذہب وملت اور رنگ ونسل سب کو یکساں حقوق فراہم کرتا ہے اور کسی طرح کی تفریق کی اجازت نہیں دیتا لیکن عملاً مسلمانوں کے ساتھ ہمیشہ امتیازی سلوک روا رکھا گیا اور منظم انداز میں اس بات کی کوشش کی گئی کہ اس ملک کے مسلمان کبھی سر اٹھا کر نہ جی سکیں اور دوسرے درجہ کے شہری بننے پر مجبور ہوجائیں۔ اس امر کو یقینی بنانے کے لیے فرقہ پرست طاقتوں ِ ،خفیہ ایجنسیوں اور میڈیا کے مثلث نے ایڑی چوٹی کا زور لگا رکھا ہے۔
                یہ بات واضح ہے کہ دہشت گردی کے نام پر مسلمانوں کی شبیہ داغدار کرنے اور ان کے نوجوانوں کی گرفتاریوںکے لیے منظم منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور ان علاقوںکو بطور خاص نشانہ بنایا جاتا ہے جہاں عام طور پر مسلمان خوش حالی کی زندگی بسر کر رہے ہوں۔ گذشتہ دنوں پٹنہ کے گاندھی میدان میں بی جے پی کی ہنکار ریلی کے دوران ہونے والے بم دھماکوں نے یہ بات ایک بار پھر ثابت کردی ہے اور جس انداز میں مقامی پولیس اور خفیہ ایجنسیوں نے مسلم نوجوانوں کی دھر پکڑ شروع کردی ہے اس نے پھر مسلمانوں کی نیندیںحرام کردی ہیں۔ یہ دھماکہ اس لحاظ سے اپنی نوعیت کا پہلا دھماکہ ہے کہ اس میں واقعہ کے فورا بعد پولس نے سازش کے اہم ملزمین کو گرفتار کرلیاجنہوں نے اعتراف جرم بھی کرلیا اور انہیں یہ بتانے میں بھی دیر نہیں لگی کہ ان دھماکوں کے پیچھے انڈین مجاہدین کا ہاتھ ہے۔پولیس کے بیانات کے مطابق گرفتار شدگان کی اطلاع کی بنیاد پر دیگر کئی نوجوانوں کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے اور بقیہ ملزمین کی گرفتاری کے لیے چھاپہ ماری جاری ہے، اس کے ساتھ ہی مہا بودھی مندر بلاسٹ کا معاملہ بھی سلجھ گیا کہ اسی گروپ نے بودھ گیا بلاسٹ بھی کیا تھا، لاج میں چھاپہ ماری کے دوران بموں کے علاوہ کئی مذہبی مقامات کے نقشے بھی برآمد ہوئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ دہشت گرد کئی مقامات پر حملے کرنے کا منصوبہ رکھتے تھے۔ واضح ہوکہ اس بار دھماکوں کی سازش کا مرکز دربھنگہ اور مدھوبنی کے بجائے رانچی قرار دیا گیا لیکن گرفتار شدگان میں دربھنگہ کے نوجوان بھی شامل ہیں۔
                ملک بھر میں رونما ہونے والے دہشت گردانہ واقعات کے بعد ہونے والی گرفتاریوں پر مسلمانوں اور انصاف پسند عوام کی جانب سے سوال اٹھائے گئے ہیں لیکن پٹنہ دھماکوں میں سوال صرف گرفتاریوں پر نہیں بلکہ دھماکوں پر بھی اٹھ رہے ہیں۔ پولیس اور میڈیا نے بھلے ہی حسب معمول اپنے طور پر عدالتی عمل شروع ہونے سے قبل ہی پکڑے گئے نوجوانوں کا جرم ثابت کردیا ہے لیکن اس بار ان کی تھیوری کی تصدیق بھولے بھالے لوگوں کے لیے بھی مشکل ہورہی ہے۔ کئی سوالات ایسے ہیں جن کا جواب پائے بغیر اسے نام نہاد انڈین مجاہدین (اگر اس کا واقعی وجود ہے) کی کارستانی قرار دینا آسان نہ ہوگا۔ سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ سیکوریٹی کے اتنے سخت انتظام کے باوجود دہشت گردوں کو یہ موقع کیسے ملا کہ نہ صرف یہ کہ بم لے کر اندر داخل ہوئے بلکہ پے در پے چھ دھماکے کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے۔ پھر یہ کہ مسلسل دھماکے ہوتے رہے نہ کسی قسم کی افرا تفری ہوئی اور نہ کوئی بھگڈر مچی اور نہ ہی ریلی میں کوئی رخنہ پڑا۔ حد تو یہ ہے کہ بی جے پی کے وزیر اعظم کے امیدوار نریندر مودی نے ایک گھنٹہ تک دھواں دھار تقریر کی لیکن اس دوران ایک بار بھی ان دھماکوں کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی دھماکوں میں اپنی جان سے ہاتھ دھونے والوں کے لیے ہمدردی کے چند کلمات کہے جبکہ چار پانچ دنوں بعد ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرنے کے لیے پھر بہار کا دورہ کیا۔ یہ وہ سوالات ہیں جو یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ یہ دھماکے خود فرقہ پرستوں نے کرائے ہیں تاکہ اس کی بنیاد پر فرقہ وارانہ خطوط پر سماج کو تقسیم کر کے اپنے لیے اقتدار کی راہ آسان بنائی جائے۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ دھماکہ جو بھی کرنے اس کا الزام انڈین مجاہدین کے سر ہی جائے گا۔ اور شاید اسی لیے اس نام نہاد انڈین مجاہدین کا عفریت پیدا بھی کیا گیا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ ریلی کے لیے حکومت کے حفاظتی انتظامات کے علاوہ خود بی جے پی نے بھی ایک پرائیویٹ سیکوریٹی ایجنسی کی خدمات حاصل کر رکھی تھی۔ اس معاملہ کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ دوران تقریر نریندر مودی نے کہا کہ کچھ لوگوں نے ان کے نام کی سپاری لے رکھی ہے تو دوسری جانب بی جے پی نے ریاستی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے آئی بی کے الرٹ کے باوجود سیکوریٹی کے پختہ انتظامات نہیں کئے ۔ ہمیں نہیں معلوم کہ آئی بی نے یہ الرٹ بھیجا تھا یا یہ بات اس لیے دہرائی جارہی ہے کہ تاکہ خفیہ ایجنسیاں انڈین مجاہدین والی اپنی لائن پر قائم رہیں اور ہندو دہشت گرد تنظیموں کی طرف ان کی توجہ نہ ہو۔ البتہ ہمیں یہ ضرور معلوم ہے کہ مئی میں گجرات آئی بی نے ملک کی تمام خفیہ ایجنسیوں کو بتایا تھا کہ ریلی میں ہندو انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے مودی کی ریلی میں کم طاقت کے دھماکے کرنے کا اندیشہ ہے۔ ایک بہت بڑا سوال ہے کہ اس الرٹ کے باوجود ہماری خفیہ ایجنسیوں کی نگاہیں اس جانب کیوں نہیں اٹھ رہی ہیں اور دیگر سیاسی جماعتیں کیوں خاموش ہیں؟
                اس بار دھماکوں کی سازش کا مرکز رانچی قرار دیا گیا ہے لیکن گرفتاریوں کا سلسلہ بہار کے دربھنگہ ، مظفر پور اور موتیہاری تک دراز ہے اور اس کا اثر بہار کی طرح پورے جھارکھنڈ کے مسلمانوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ دربھنگہ سے گرفتار مہر عالم کی صورتحال غیر یقینی ہے۔ اسے اس کے اہل خانہ کے ذریعہ گیا بلایا گیا لیکن پٹنہ میں اسے روک کر اس کے اہل خانہ کو واپس جانے کے لیے کہا گیا ۔ پھر خبر دی گئی کہ مہر عالم مظفر پور سے این آئی اے کو چکمہ دے کر فرار ہوگیا پھر آنا فانا چند گھنٹوں میں اسے کانپورمیں دھر دبوچا گیا۔ اس کے اہل خانہ کو ۳؍ نومبر کو اطلاع دی گئی کہ مہر عالم کو چھوڑ دیا گیا ہے لیکن یہ تحریر لکھے جانے تک وہ گھر نہیں پہنچا ہے۔ دریں اثنا جھارکھنڈ پولیس کے مطابق اس نے رانچی کے ایک لاج سے ۹؍ بم برآمد کئے ہیں اور یہ بم ویسے ہی ہیں جن کا استعمال پٹنہ میں کیا گیا۔ دوسری جانب ذرائع ابلاغ کے مطابق شمالی بہار کے سمستی پور ریل ڈویزن کے مختلف اسٹیشنوں پر بھی مبینہ خطروں کے پیش نظر سیکوریٹی سخت کردی گئی ہے۔ اس کی خبر میڈیا بطور خاص ہندی میڈیا میں جس طرح دی گئی ہے اس سے سنسی پھیل گئی ہے اور ہر داڑھی ٹوپی والا مشکوک نگاہوں سے دیکھا جانے لگا ہے۔
                بہر حال اب نہ تو دہشت گردانہ کارروائی نئی بات ہے اور نہ اس کے ضمن میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں میں کچھ نیا ہے۔ نئی بات صرف یہ ہے کہ یہ بہار کی پر امن فضا کو بگاڑنے کی فرقہ پرستوں کی سازش ہے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی کسی نہ کسی صورت میں جاری رہے گا ۔ جس طرح ان دھماکوں کو مظفر نگر فساد کے رد عمل کے طور پر پیش کئے جانے کی کوشش ہورہی وہ فرقہ وارانہ یکجہتی کو ختم کرنے کی منظم سازش ہے۔ اس سے قبل مہابودھی مندر میں ہونے والے دھماکوں کے تار بھی میا نمار میں بودھوں کے ذریعہ مسلمانوں کے قتل عام سے جوڑے گئے تھے۔ فرقہ پرست طاقتیں مذہبی منافرت پھیلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے۔ آئندہ عام انتخابات کے پیش نظر بہار کی پر امن فضا میں فرقہ واریت کا زہر گھولنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ یہ سارا کھیل مرکز کا اقتدار حاصل کرنے کے لیے کھیلا جارہا ہے۔ پٹنہ جیسے دھماکے کہیں بھی اور کبھی بھی ہوسکتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں بطور خاص فرقہ پرستوں کے ذریعہ لاشوں کی سیاست کی روایت بہت قدیم ہے۔ جنتا دل متحدہ اور بی جے پی کی طلاق سے ریاست میں نئی صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور اس وقت فرقہ پرستوں کی ساری توجہ بہار پر ہے۔ لالو پرساد کے میدان سے غائب ہونے کے سبب ان کے حوصلے مزید بلند ہیں۔ نیش کمار نے ۱۷؍برسوں تک فرقہ پرستوں کے ساتھ وفاداری نبھائی تو یہ سوچا سمجھا فیصلہ تھا اور آج ترک تعلق بھی بغیر سوچے سمجھے نہیں کیا ہے۔ سیاست کے کھیل بڑے نرالے ہوتے ہیں۔ لیکن ریاست کے وزیر اعلی کی حیثیت سے ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ بہار کے پر امن ماحول کو فرقہ پرستی کے عفریت سے بچائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ بے قصوروں کی اندھا دھند گرفتاریوں پر لگام لگے۔

                موجودہ وقت مسلمانوں کے لیے بڑا ہی پر آشوب ہے۔ دہشت گردانہ واقعات ہوں یا فرقہ وارانہ فسادات ان کا فائدہ کوئی بھی اٹھاسکتا ہے لیکن ان کی مار مسلمانوں کو ہی جھیلنی پڑتی ہے۔ اس لیے انہیں نہ صرف ہوشیار رہنا ہوگا بلکہ آگے بڑھ کر ایسے اقدام کرنے ہوں گے جن سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ماحول قائم ہو۔ ملک اور ریاست کی اکثریت سیکولر ہے۔ مسلم قائدین کو سیکولر افراد کے ساتھ مل کر فرقہ پرستی کے ناگ کو کچلنے کی سعی کرنی ہوگی۔ ساتھ ہی سیاسی جماعتوں پر واضح کرنا ہوگا کہ کوئی بھی جماعت انہیں اپنی جاگیر نہ سمجھے۔ ہماری وفاداری اسی جماعت کے ساتھ ہوگی جو ہمیں تحفظ فراہم کرسکے اور ہمارے مفادات کی نگرانی کرسکے۔ غرض کہ موجودہ صورتحال سے نجات اسی وقت حاصل ہوسکتی ہے جب مسلمان حالات کو سمجھیں ، فرقہ پرستوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور بصیرت اور حکمت عملی سے اپنے مسائل کے حل کے لیے کمر بستہ ہوجائیں ۔ یہ کوئی دوسرا نہیںکرے گا لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایسا کریں گے؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو پھر سمجھ لینا چاہیے کہ بربادی ہمارا مقدر بن چکی ہے۔

جمعہ، 27 دسمبر، 2013

انسداد فرقہ وارانہ تشدد بل

انسداد فرقہ وارانہ تشدد بل
کانگریس نے مسلمانوں کو پھر فریب دیا
                مسلمانوں کے تئیں بھارتیہ جنتا پارٹی کی سوچ اور اس کا رویہ جگ ظاہر ہے ۔ اس کا تو خمیر ہی مسلم دشمنی سے تیار ہوا ہے ۔ مسلمانوں کے قتل وخون سے اسے آکسیجن ملتا ہے اور نفرت کی سیاست کے ذریعہ یہ اپنے لئے حصول اقتدار کی راہیں ڈھونڈتی ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے خود بی جے پی بھی جھٹلانا نہیں چاہتی۔ ۲۰۱۴ء کے عام انتخاب میں مودی کو وزیر اعظم کا امیدوار اسی لئے بنایا گیا کہ وہ تشدد پسند اور فرقہ پرست ذہنوں کی پسند ہیں ۔ اگر بی جے پی مذکورہ خصوصیات سے عاری ہوجائے تو اس کے لئے اپنے وجود و بقا کا سوال پیدا ہوجائے گا۔ جب کہ اس کے برعکس کانگریس خود کو سیکولرزم کا علمبردار گردانتی ہے اور نظریاتی طور پر اس کے سیلوکر ہونے سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے ایجنڈے کی بنیاد سیکولرزم پر ہے اور اسی حوالے سے اسے مسند اقتدار نصیب ہوتا ہے ۔ ملک کی ان دوبڑی سیاسی جماعتوں کے اسی نظریاتی فر ق کی وجہ سے ملک کی دوسری بڑی اکثریت ہمیشہ غیر مشروط طور پر اپنے ووٹوں سے کانگریس کو اقتدار کے مرکز تک پہنچاتی رہی ہے ۔ لیکن اس کے عوض اس جماعت نے اس دوسری بڑی اکثریت کے ساتھ جو سلوک کیا اس کی داستان بے حد کرب انگیز ہے ۔ اپنے طویل دور اقتدار میں اس نے مسلمانوں پر ایسے ایسے مظالم ڈھائے اور انہیں اس طرح بے دست و پا کردیا کہ آزادی کے ۶۶ سال بعد بھی انہیں ہمہ دم اپنے جان و مال کے تحفظ کی فکر ستاتی رہتی ہے  پھر بھی وہ اسی کی طرف ملتجیانہ نگاہوں سے دیکھتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں اس صورت حال سے دوچار ہونا پڑا ہے ۔
                مسلمانوں کو تباہ و برباد کرنے کا سب سے مؤثر اور آزمودہ ہتھیار فرقہ وارانہ فسادات ہیں ۔ ان کے ذریعہ جہاں مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کیا جاتا ہے وہیں تمام سیاسی جماعتیں ان سے اپنے سیاسی فوائد حاصل کرتی ہیں۔ اگر فرقہ پرست طاقتیں ان کے ذریعہ ہندو وٹ متحد کرتی ہیں تو کانگریس سمیت خود کو سیکولر کہنے والی دیگر جماعتیں خود کو مسلمانوں کے مسیحا کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی فوائد کی خاطر فسادات کی منتظر رہتی ہیں۔ گویا فسادات کا نقصان تنہا مسلمانوں کو جھیلنا پڑتا ہے لیکن اس کا فائدہ سبھی اٹھاتے ہیں۔ اس لئے کوئی سیاسی پارٹی یہ نہیں چاہتی کہ فسادات کا سلسلہ ختم ہو ۔ مرکزی وزارت داخلہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق گذشتہ ایک دہائی کے دوران ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کے ۴۷۳۸ ؍واقعات پیش آئے جن میں ۵۰۲۲ ؍افراد ہلاک اور ۶۶۸۲۸؍افراد زخمی ہوئے ۔ سال رواں میں ملک بھر میں ۴۷۹؍ فسادات ہوئے جن میں ۱۰۷ ؍افراد ہلاک ہوئے ۔ اس سال یہ واقعات سب سے زیادہ اتر پردیش میں ہوئے ۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ کس طرح فسادات اس ملک کا مقدر بن چکے ہیں لیکن ان کے سد باب کے لئے آج تک کوئی مثبت اقدام نہیں کیا گیا ۔ یہ بات بھی طے ہے کہ ان فسادات میں یکطرفہ طور پر مسلمانوں کا نقصان ہوتا ہے، ان کی جانیں جاتی ہیں ، املاک تباہ ہوتی ہیں، ان کے گھر بار جلائے جاتے ہیں اور ان پر ہی فساد بھڑکانے کا الزام عائد کرکے انہیں ہی داخل زنداں بھی کیا جاتا ہے۔ فسادات کے داغ تمام سیاسی جماعتوں کے دامن پر لگے ہیں اگرچہ گجرات کا فساد بی جے پی کی حکومت میں ہوا لیکن اس کے علاوہ جتنے بھی فسادات ہوئے وہ سب کانگریس کی حکومت میں ہوئے جبکہ حالیہ مظفر نگر فسادات خود کو مسلمانوں کا مسیحا قرار دینے والے ملائم سنگھ کے انتہائی ناتجربہ کار لاڈلے کی ریاست میں ہوئے۔
                چونکہ تمام سیاسی جماعتیں فسادات کا فائدہ اٹھاتی ہیں اور اسی لئے ان کے سدباب کی کوشش نہیں کی جاتی ہے۔ مسلمان جب روتے ہیں ، گرگراتے ہیں ، امن و سلامتی اور تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں اور سیکولر جماعتوں سے دل برداشتگی کے اس مقام پر پہونچ جاتے ہیں جہاں ان جماعتوں کو ان کے ووٹوں سے محرومی کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے تو یہ جماعتیں انہیں پھر فرقہ پرستوں کا خوف دلاکر یا ایسے خوشنما وعدوں کے ذریعہ زیر کرلیتی ہیں جو کبھی شرمندئہ تعبیر نہیں ہوتے۔ اس سلسلے میں سب سے دوغلا رویہ کانگریس کا رہا ہے ۔بھلے ہی وہ خود کو مسلمانوں کا ہمدرد بتاتی ہو لیکن اس نے ان کے ساتھ وہ سلوک کئے ہیں جو کوئی دشمن بھی کیا کرے گا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مسلمانوں کو اس مقام تک پہنچانے میں جہاں وہ سماجی ، تعلیمی ، معاشی اور سیاسی طور پر دلتوں سے بھی بدتر ہوگئے ہیں، تنہا کانگریس ذمہ دار ہے ۔ اسے صرف مسلمانوں کے ووٹوں سے مطلب ہے اور آج تک وہ محض جھوٹے وعدوں کے سہارے ان کے ووٹ حاصل کرتی رہی ہے ۔ اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ مسلمانوں کے ووٹوں کے بغیر اقتدار حاصل نہیں کرسکتی لیکن شاید اس سے زیادہ اسے اس بات پر اعتماد ہے کہ مسلمان بھی اسے چھوڑ کر نہیں جاسکتے۔ اس لئے وعدہ خلافیاں کرنے میں اسے کوئی تامل نہیں ہوتا ہے ۔ بابر ی مسجد سانحہ کے بعد جب مسلمانوں نے کانگریس سے نظریں پھیر لیں تو وہ حاشیہ پر چلی گئی لیکن پھر خوشنما وعدے کر کے اس نے اپنے روایتی ووٹ بینک یعنی مسلمانوں کو رام کر ہی لیا۔ جن وعدوں کے سہارے کانگریس دوبارہ برسر اقتدار آئی ان میں انسداد فرقہ وارانہ تشدد بل بھی شامل تھا ۔ اس نے ۲۰۰۴ء کے پارلیامانی اتنخاب کے اپنے منشور میں اس بل کے لانے کا وعدہ کیا تھا اس کے ذریعہ ایک ایسے موثر فساد مخالف قانون لانے کی بات کہی گئی تھی جو نہ صرف فسادیوں کو کیفر کردار تک پہنچاتا بلکہ وہ سیاست داں اور بیورو کریٹس بھی اس کی زد سے نہیں بچ پاتے جن کے اشارے پر یا جن کے تعاون سے ایک خاص فرقہ کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اگر پارلیامنٹ کے ذریعہ اس بل کو منظور کرکے قانونی شکل دے دی جاتی تو یقینا یہ فسادات کی روک تھام کے لئے موثر ثابت ہوتا لیکن  ع اے بسا آرزو کہ خاک شدہ ۔صورت حال یہ ہے کہ کانگریس کی سربراہی والی مرکزی حکومت اپنی دوسری معیاد ختم کرنے جارہی ہے لیکن اس بل کو پارلیامنٹ میں پیش کیا جانا نصیب نہ ہوا۔ مظفر نگر فسادات کے بعد ایک بار پھر یہ امید پیدا ہوئی کہ مجوزہ بل پارلیامنٹ کے آخری اجلاس میں پیش کردیا جائے گا ۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ اور کانگریس صدر سونیا گاندھی نے خود مظفر نگر جاکر فساد زدگان سے جس طرح اظہار ہمدردی کیا اس سے بھی یہ توقع بڑھ گئی کہ شاید حکومت اب اسے پارلیامنٹ سے منظور کر اہی لے گی ۔ سماجی اور ملی تنظیموں نے بھی شدت کے ساتھ اسے منظور کرانے کا مطالبہ کیا ، کابینہ نے بھی اسے منظوری دے دی ، مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کے ۔ رحمن خان تو مسلسل یقین دہانی کراتے رہے کہ سرمائی اجلاس میں یہ بل پیش کردیا جائے گا۔ ان سب کے باوجود کانگریس نے ایک بار پھر مسلمانوں کو فریب دیا اور اس طرح گویا انہیں پیغام بھی دے دیا کہ اگر انہیں یہ قانون چاہئے تو ایک بار پھر کانگریس کو مرکز میں اقتدار میں لانا ہوگا۔ اسی سرمائی اجلاس میں برسوں سے تعطل کا شکار لوک پال بل تو آناً فاناً منظور ہوگیا لیکن انسداد تشدد بل کو پیش کرنے کی بھی نوبت نہیں آئی اور اجلاس وقت مقررہ سے دو دن قبل ہی ختم کردیا گیا اور اب م۔ افضل جو خیر سے مسلمان ہی ہیں اور کانگریس کے ترجمان ہیں اپنے مسلمان بھائیوں کو یقین دہانی کرا رہے ہیں کہ حکومت اس بل کے تئیں اب بھی سنجیدہ ہے اور ضرورت پڑی تو اس کے لئے خصوصی اجلاس بلایا جاسکتا ہے۔’’ اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا‘‘۔ اگر حکومت اتنی ہی سنجیدہ تھی تو اس نے اجلاس کی مدت میں توسیع کے بجائے دو دن قبل ہی اسے کیوں ختم کردیا اور کم از کم اسے پیش کیوں نہیں کر دیا ۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر یہ بل پیش کردیا جاتا تو منظور بھی ہوجاتا ۔ اس پر اتفاق رائے قائم کرنے کے لئے پہلے ہی اس میں ترمیم کرکے ہلکا کردیا گیا تھا ۔ اگر بی جے پی اور ایک دو جماعتیں اس کی مخالفت کرتیں تو بھی یہ بل پاس ہوسکتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ کانگریس چاہتی ہی نہیں تھی کہ بل پاس ہو بلکہ اسے خطرہ تھا کہ بل پاس ہوجائے گا اس لئے اس نے اسے پیش ہی نہیں کیا۔ یوں بھی اگر اس بل کی مخالفت ہوتی تو یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہوتا۔ اس سے قبل بھی اپوزیشن حتی کہ اپنے اتحادیوں کی زبردست مخالفت کے باوجود اسی حکومت نے امریکہ سے جوہری معاہدہ اور ایف ڈی آئی سے متعلق قوانین منظور کرالئے ۔ اس لئے یہ کہنا کہ اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے بل پیش نہیں کیا جاسکا عذر لنگ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ کانگریس کی نیت ہی اس بل کو منظور کرانے کی نہیں تھی۔ اسے مسلمانوں کے جان و مال کے تحفظ سے زیادہ ہم جنس پرستوں کے حقوق کی فکر ہے ۔ اسی لئے تو اس نے سپریم کوٹ کے حالیہ فیصلہ کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کردی ہے۔
                اس حقیقت کے باوجود کہ مسلمانوں کی حمایت کے بغیر کانگریس برسر اقتدار نہیں آسکتی آخر وہ ان کے ساتھ دھوکہ اور فریب کیوں کرتی ہے ؟ کیا وجہ ہے کہ وہ خود کو لوک پال بل منظور کرانے کے لئے مجبور پاتی ہے لیکن انسدا د فرقہ وارانہ تشددبل اسے اہم نہیں لگتا؟اس کی وجہ ظاہر ہے اور وہ یہ ہے مسلمانوں نے خود کو اس کے ہاتھوں گروی رکھ لیا ہے ۔ وہ یہ اچھی طرح سمجھ چکی ہے کہ مسلمان بھلے ہی اسکے خلاف اپنی زبانی ناراضگی ظاہر کرتے رہیں لیکن جب ووٹ دینے کا موقع آئے گا تو لامحالہ مودی کے مقابلے میں اسے ہی ترجیح دیں گے ۔ اسے یہ بھی معلوم ہے کہ مسلم رہنمائوں کو خریدا بھی جاسکتا ہے، وہ مسلمانوں میں پائے جانے والے اختلافات سے بھی اچھی طرح واقف ہے ، اسے پتہ ہے کہ اگر ایک طبقہ اس کی مخالفت پر آمادہ ہوا تو دوسرے طبقہ سے سودے بازی کی جاسکتی ہے ۔ وہ اس سے بھی باخبر ہے کہ مسلمانوں میں قیادت کا فقدان ہے ۔ اس نے چند چرب زبان مسلمانوں کو پارٹی میں ترجمان کا درجہ دے رکھا ہے  جو مسلم عوام میں جاکر اور انہیں فرقہ پرستوں کا خوف دلاکر یہ باور کرائیں گے کہ کانگریس ان کی مجبوری ہے ۔ کانگریس کے ایک اور مسلم ترجمان نے تو ایک مجلس میں ببانگ دہل کہا تھا کہ مسلمان کانگریس کو اس لئے ووٹ دیتے ہیں کہ یہ ان کی مجبوری ہے  اور حقیقت بھی یہی ہے کہ مسلمان کانگریس سے نفرت کے باوجود عنان حکومت فرقہ پرستوں کے ہاتھوں میں نہیں سونپنا چاہتے ہیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ صورت حال کب تک برقرار رہے گی اور اس کا تدارک کیا ہے ؟آخر مسلمان کب تک خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑے رہیں گے ؟اب وقت آگیا ہے کہ وہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کریں ۔ انہیں متبادل تلاش کرنا ہوگا ، اگر دیگر کمزور طبقات اپنے اتحاد کے ذریعہ حکومتوں سے اپنے مطالبات تسلیم کرواسکتے ہیں تو مسلمان ایسا کیوں نہیں کر سکتے ۔ کانگریس کی غلامی سے نجات پانے کے لئے مسلمانوں کو کوئی نہ کوئی سبیل ڈھونڈنی ہی ہوگی اور اگر ملی قیادت انانیت کے خول سے باہر نکل کر اتفاق و اتحاد کا ثبوت دے اور ملت کے وسیع تر مفاد کو مقدم رکھے تو یہ ناممکن نہیں ہے۔ عام انتخاب کی آہٹ شروع ہوگئی ہے اس لئے جس قدر جلد ممکن ہو ملی قیادت پورے اخلاص کے ساتھ اپنے حقو ق کی لڑائی کے لئے تیار ہوجائے ۔ (مضمون نگار ’’الہدیٰ‘‘ دربھنگہ کے مدیر ہیں)   
٭٭٭

ہفتہ، 21 دسمبر، 2013

عید مبارک

عید مبارک
                                                                       
            عید کا دن مسلمانوں کے لئے بے پایاں مسرت وشادمانی کا دن ہے۔ مسلسل ایک ماہ تک رمضان المبارک کے فرض روزوں کی تکمیل کے بعد مسلمان بے حد خوش ہوتے ہیں۔ یہ خوشی اس بات کی ہوتی ہے کہ اللہ تعالی نے اپنے فضل وکرم سے ماہ مبارک کے روزوں کی تکمیل کی توفیق بخشی اور یہ اس کے فضل سے ہی ممکن ہوا کیونکہ مسلسل ایک ماہ تک بھوک وپیاس کی شدت برداشت کرنا اور بعض مباح اور جائز چیزوں کو ترک کرنا کوئی معمولی بات نہ تھی، لیکن اللہ کے حکم پر مسلمانوں نے لبیک کہتے ہوئے نہ صرف بھوک وپیاس کی شدت برداشت کی بلکہ دیگر عبادات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اللہ کی مقدس کتاب قرآن مجید سے اپنے رشتہ کو استوار کیا اور اس سے اپنے رشتے کی تجدید کی تو بیشک ایسے لوگوں کے لئے یہ دن انتہائی وخوشی ومسرت کا دن ہے اور ایسے لوگوں کے لئے اس دن خوشی کا کوئی ٹھکانا نہیں ہے۔
            یہ خوشی اس بات کی ہوتی ہے کہ اللہ نے جو فریضہ مقرر کیا تھا اس کی ادائیگی کی کوشش کامیاب ہوئی۔ اللہ کو راضی کرنے کا موقع ہاتھ آیا ۔ رمضان المبارک میں ہی اللہ رب العزت نے قرآن مجید نازل فرمایا ، خوشی اس بات کی ہے کہ اس مبارک مہینہ میں اس کتاب مقدس سے اپنا تعلق تازہ اور قوی بنانے کی سعادت حاصل ہوئی۔ تلاوت کا اہتمام کیا گیا، تراویح ادا کی گئی، اللہ کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کی گئی، نیکیاں سمیٹنے اور برائیوں سے حتی الامکان بچنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ اللہ کی اطاعت اور اس کے بندوں کے ساتھ حسن سلوک کا موقع نصیب ہوا۔ عید کے دن اسی توفیق ارزانی پر اللہ کا شکر ادا کیا جاتا ہے اور جنہیں یہ نعمتیں حاصل ہوتی ہیں اور یہ سعادتیں میسر ہوتی ہیں وہ اپنی خوشی ومسرت کے اظہار کے طور پر اللہ کے سامنے اپنی پیشانیاں جھکادیتے ہیں اور اللہ کی کبریائی بیان کرتے ہیں۔
نبی کریم ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو دیکھاکہ اہل مدینہ دو تہوار نوروز اور مہرجان بڑی دھوم دھام سے مناتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ نے تمہیں ان دو تہواروں سے بہتر دو تہوار مرحمت فرمائے ہیں ۔ عید الفطر اور عید الاضحیٰ۔
            عید الفطر مسلمانوں کے لئے انتہائی اہم دن ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے عیدین کی مشروعیت کی حکمت وفوائد کے سلسلہ میں فرمایا ہے کہ” ہر ملت کے لئے ایک ایسا مظاہرہ اور اجتماع ضروری ہوتا ہے جس میں اس کے سب ماننے والے جمع ہوں تاکہ ان کی شان وشوکت اور کثرت تعداد ظاہر ہو“ گویا اس کی مشروعیت میں ایک نکتہ یہ بھی پوشیدہ ہے کہ اس مسلمانوں کی شان وشوکت ظاہر ہوتی ہے۔ کیونکہ مسلمان اپنی آبادیوں سے باہر نکل کر بڑی تعدادمیں جمع ہوتے اور دوگانہ نماز ادا کرتے ہیں جس سے ان کی کثرت تعدا داور شان وشوکت کا مظاہر ہ ہوتا ہے اور دوسری قوموں پر اس کا اثر پڑتا ہے۔
            عید الفطر کے دن کے تعلق سے ایک بے حد اہم عبادت صدقۃ الفطر کی ادائیگی بھی ہے۔رمضان کے اختتام پر ہر چھوٹے بڑے ، مرد عورت، آزاد، غلام کی طرف سے صدقة الفطر ادا کرنا واجب ہے۔ حدیثوں میں اس کی صراحت آئی ہے۔ یہ صدقة الفطر ان ہی افراد کی طرف سے ادا کرنا ہے جو رمضان کے اختتام اور ہلال عید کے وقت موجود ہوں با حیات ہوں۔ صدقة الفطر کے بھی بہت سے فوائد بیان کئے گئے ہیں ۔ ایک فائدہ تو یہ ہے کہ رمضان المبارک کے روزوں میں جو نقص یا کمی رہ جاتی ہے اس کی تلافی ممکن ہوجاتی ہے۔ اس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اسلامی معاشرہ کے وہ افراد جو اپنی کم مائیگی مفلوک الحالی اور معاشی اعتبار سے کمزور ہونے کی وجہ سے عام لوگوںکی طرح عید الفطر کے موقع پر مظاہر ہ نہیں کرسکتے ، صدقة الفطر سے ان کی ضرورتوں کی تکمیل بھی ہوجاتی ہے اور وہ بھی اس دن کو خوشی ومسرت کے ساتھ گزارسکتے ہیں ،جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دن صرف امیر اور خوش حال لوگوں کے لئے نہیں بلکہ پوری ملت اسلامیہ کے لئے خوشی و مسرت کے اظہار کا دن ہے اور اس طرح امیر وغریب اور اعلی وادنی کی خلیج ختم ہوجاتی ہے اور انما المؤمنون اخوہ کی عملی تصویر نظر آتی ہے۔
            اسلام کی تمام عبادت میں اجتماعیت پربے حد زور دیا گیا ہے۔ لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے یہ سبق بھلادیا ہے اس پر توجہ دینا چھوڑ دیا ہے۔ آج ملت اسلامیہ ایسے حالات میں عید منانے جارہی ہے کہ وہ پوری دنیا میں عدم استحکام کا شکار ہے۔ باہمی اختلاف وانتشار نے ملت کو اس قدر کمزور بنادیا ہے کہ دوسری قومیں جا بجا اس کے افراد کو نشانہ بنارہی ہیں بلکہ اس کی مملکتوں پر بھی غلبہ وتسلط قائم کر رہی ہیں۔ اسلام کے خلاف سازشیں عروج پر ہیں اور اس کو مٹانے کے لئے اس کے اہم مقامات مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کو ایٹم بم سے اڑانے کا ناپاک خفیہ منصوبہ بنایا جارہا ہے۔ مصر کی وہ حکومت جو مسلسل جد وجہد کے بعد ایک انقلاب بن کر سامنے آئی تھی محض اسرائیل و امریکہ کے سامنے جبہ سائی نہ کرنے کی وجہ سے متزلزل ہوگئی۔ خود ہمارے ملک میں مسلمانوں کو ذلیل ورسوا کرنے اور انہیں دوسرے درجہ کا شہری بن کر جینے کے لئے مجبور کرنے کے سو جتن کئے جارہے ہیں۔ فسادات کے ذریعہ ان کے جان ومال کو تباہ کرنے کے ساتھ ساتھ نام نہاد دہشت گردی کے نام پر ان کے بچوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کیا جارہا ہے، ان کا کیریر برباد کیا جارہا ہے، ان کا قتل ہورہا ہے اور پوری قوم کی شبیہ مسخ کرنے اور اسے ذلیل ورسوا کرنے کی سازشیں زور وشور سے جاری ہیں۔اس وقت جن لوگوں کو دہشت گردی کے نام پر نشانہ بناکر گرفتار کیا گیا ہے ذرا غور کیجئے کہ آج جب ہم اور ہمارے بچے عید کی خوشیوں سر شار ہورہے ہیں، ان کے والدین پر کیا بیت رہی ہوگی ۔ اپنے بیٹے کے غم بہنے والے آنسوؤں کو پوچھنے والاکون ہوگا ان کے بچے اپنے والد کی حسرت میں دروازوں کو بے یار ومدگار تک رہے ہوں گے۔ ان کی بیوی اپنے کھوئے ہوئے شوہر کی کے غم میں نڈھال عید کے ساری خوشیوں سے بے پروا ہوگی۔ لیکن تشویش ناک بات یہ ہے کہ ان تمام خطرات کے باوجود پوری ملت جمود وتعطل کی شکار ہے۔ مسلم حکمرانوں اور سیاست دانوں کی بے حسی کے علاوہ مسلم عوام بھی بیداری کا ثبوت نہیں دے رہے ہیں۔ عام مسلمانوں کی حالت یہ ہے کہ وہ باہم دست وگریباں ہیں، اپنے آپ میں مگن اور اپنا زیادہ وقت لا یعنی باتوںمیں گزارتے ہیں۔ عید کے موقع پر ہمارے اندر ملت کے تئیں فکر مندی کے آثار نظر نہیں آتے ۔ ہماری عید کی تیاریاں اسراف کی حدوں میں داخل ہوجاتی ہیں، مادی عیش وعشرت اور جسمانی لذت وخوشی کے حصول میں ہم روحانی لذتوں سے محروم ہورہے ہیں، ہم اپنی تقریبات اور دعوتوں میںجو فضول خرچیاں کرتے ہیں اگر انہیں کسی قدر سادگی سے انجام دیں اور ان بچے ہوئے پیسوں کو مسکینوں ،یتیموں، بیواؤں، فسادات میں لٹے پٹے لوگوں اور نام نہاد دہشت گردی کے نام پر گرفتار شدگان کی رہائی کے لیے خرچ کریں اور ان کے مسائل حل کرنے کے لئے صرف کریں تو یقینا ہماری عید کی لذتیں دوبالا ہوجائیں گی اور ایسا خوشگوار سماجی انقلاب رونما ہوگا جس کے اثرات بے حد نتیجہ خیز ہوں گے اور ملی وحدت کا شاندار مظاہرہ بھی ہوگا۔
            کتنے افسوس کی بات ہے کہ اسلام پر خطرات کے بادل منڈلارہے ہیں۔ کھلے عام ملت اسلامیہ کے افراد کی تذلیل وتوہین کی جارہی ہے، کلام الٰہی کی بے حرمتی کے واقعات پیش آرہے ہیں ، رسول اکرم ﷺ کی شان مین گستاخی کی جارہی ہے لیکن ہم اب بھی خواب غفلت میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ صورت حال کسی ایک جگہ کے مسلمانوں کی نہیں ہے بلکہ مسلمان جہاں جہاں آباد ہیں کم وبیش ان کی حالت یہی ہے۔ لہٰذا حالات کا تقاضہ ہے کہ مسلمان جہاں کہیں آباد ہوں، اسلام پرعمل پیرا ہوں، اللہ کی کتاب سے اپنا تعلق مستحکم کریں، اسلام کے تقاضوں پر دھیان دیںاور یہ بات یاد رکھیں کہ اتحادبین المسلمین وقت کی سب سے اہم ضرورت ہے اور ہمیں عیدین میں یہی پیغام ملتا ہے۔
            آئیے اس عید کے موقع پر ہم اپنا جائزہ لیں کہ ہم نے خود کو عید کی سچّی خوشی کا حقدار بنایا ہے یا نہیں ؟ دیکھیں کہ عید ہمارے لئے مادی خوشی کا ایک موقع ہے یا روحانی مسرت وشادمانی کا؟ عید کی خوشی کا تعلق، اللہ کی رضا کے حصول اس کی اطاعت وفرمابرداری اور اس کے بندوں کے ساتھ محبت، مواسات اور غم گساری سے ہے۔ اگر ہم نے اپنی خواہشات کو رب العالمین کے حکم کے تابع رکھنے کا جذبہ پیدا کرلیا ہو، اس کی کتاب سے اپنا رشتہ مستحکم کرلیا ہو، دن بھر بھوکے پیاسے رہ کر اپنے کمزور اور مفلوک الحال بھائیوں کی فاقہ مستی کی کڑواہٹ کو محسوس کرنا سیکھ لیا ہو، ہمارے دلوں کو دیگر مسلمانوں کی مصیبتیں تڑپانے اور بے قرار رکھنے لگی ہوں اور ہم نے اجتماعیت اور اتحاد بین المسلمین کا سبق سیکھ لیا ہو تو بلا شبہ ہم عید کی سچی مسرتوں سے سرشار ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالی عید کے اس دن کو پوری ملت اسلامیہ کے لئے میمون ومبارک بنائے۔ آمین                                                                                
٭٭٭


مودی کو بچائیے کہ یہ مرکر زیادہ خطرناک ہوگا

مودی کو بچائیے کہ یہ مرکر زیادہ خطرناک ہوگا

            اس وقت عالمی سطح پر ظلم و جبراور تشدد اپنے عروج پر ہے جس کے نتیجہ میں قتل وخون اور غارت گری کا رقص برہنہ جاری ہے۔ انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں رہ گئی ہے اور نہتے ، معصوم اور بے قصور افراد کا خون پانی کی طرح بہہ رہا ہے۔ خو دہمارے ملک عزیز ہندوستان میں فسادات اور دہشت گردی کے نام پر ایک خاص فرقہ کے لوگوں کی نسل کشی کی جاری ہے اور یہ کام حکومتوں کی سر پرستی میں انجام دیا جارہا ہے۔ یہ وہ بد نصیب فرقہ ہے جو اپنے تحفظ کے لئے حکومتوں سے فریاد کرتا رہتا ہے لیکن پھر بھی اسے تحفظ فراہم نہیں کیا جاتا۔ یہ سلسلہ آزادی کے بعد سے ہی جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک کہ وہ خود اپنی حفاظت کرنا نہ سیکھ لے۔
            یہ تو رہی کمزوروں کی بات ۔ لیکن وہ شخص جو ملک پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہا ہو اور جس کے آگے پیچھے سیکوریٹی کے ماہرین کا دستہ ہر وقت موجود رہتا ہو اگر اسے اپنی جان کا اندیشہ ستانے لگے تو اسے کیا کہا جائے گا؟ بی جے پی کی جانب سے وزیر اعظم کے عہدہ کے امیدوار نریندر مودی کی جان کو خطرہ ہے۔ اس کا اظہار وہ اور ان کی پارٹی بہت دنوں سے کرتے آرہے ہیں۔ اس الزام میں کئی مسلمانوں کو اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑ چکاہے۔ صادق جمال، عشرت جہاں اور دیگر کا انکاؤنٹر اسی بنیاد پر ہوا تھا کہ وہ مودی کے قتل کے ارادہ سے نکلے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد میں یہ داستان فرضی ثابت ہوئی۔ نریندر مودی نے پٹنہ ریلی میں کہا تھا کہ کچھ لوگوں نے ان کے نام کی سپاری لے رکھی ہے۔ بہرائچ کی ایک ریلی میں مودی نے کہا کہ آئندہ الیکشن کانگریس نہیں بلکہ انڈین مجاہدین اور سی بی آئی لڑیں گے۔ بی جے پی کا کہنا ہے پٹنہ ریلی میں بھی نریندر مودی ہی نشانہ پر تھے۔ یہ تو خیر مودی اور بی جے پی کا انکشاف ہے لیکن اس کی شہادت اب پولیس اور خفیہ ایجنسیاں بھی دینے لگی ہیں۔ چھتیس گڑھ پولیس نے ریاست کے مختلف مقامات سے سیمی سے تعلق رکھنے والے ۱۱ نوجوانوں کو گرفتارکیا ہے جن پر مہابودھی مندر اور پٹنہ دھماکہ کے علاوہ مودی کو نشانہ بنانے کا بھی الزام ہے۔ جبکہ خفیہ ایجنسی انٹلی جنس بیورو (آئی بی) نے پنجاب پولس کو الرٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق سکھ انتہا پسند تنظیمیں جن کا ٹھکانہ پاکستان میں ہے ، نریندر مودی کو نشانہ بنانے کی تیاری کر رہی ہیں۔ خفیہ اطلاعات کے مطابق پاکستانی سرحد سے ایسے لوگوں کی در اندازی کی کوشش کی جارہی ہے جو پنجاب میں دہشت گردی میں شامل رہے ہیں۔ ان کا استعمال مودی کی انتخابی ریلیوں میں کیا جاسکتا ہے۔ ساتھ ہی مودی کو پاکستان کی دہشت گرد تنظیموں کے علاوہ انڈر ورلڈ ڈان داؤد ابراہیم سے بھی خطرہ ہے۔ ظاہر ہے کہ جب آئی بی نے یہ الرٹ جاری کیا ہے تو ہمارے پاس اس کی تصدیق کے سوا چارہ ہی کیا ہے۔ ہم تو اس وقت بھی آئی بی کے اس الرٹ پر ایمان لے آئے تھے جس کے نتیجہ میں ہونے والا انکاؤنٹر فرضی ثابت ہوا تھا۔
            نام نہاد انڈین مجاہدین کی جانب سے مودی کی جان کو خطرہ ہونے کی بات تو سمجھ میں آتی ہے لیکن اچانک سکھ بھی ان کے دشمن ہوگئے یہ بات اس لئے ناقابل فہم ہے کہ سکھوں کی سب سے بڑی جماعت شرومنی اکالی دل مودی کی ہم نوا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ مودی کی چیرہ دستی سے سکھ بھی محفوظ نہیں ہیں۔ ۵۶۹۱ءکی ہند پاک جنگ کے بعد پنجاب اور راجستھان سے ہجرت کرکے گجرات میں بس جانے والے سکھوں کو مودی نے علاقہ خالی کردینے کا حکم دے دیا جس کے خلاف یہ سکھ ہائی کورٹ گئے اور وہاں مقدمہ جیت لیا لیکن مودی حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کردی جو ابھی وہاں زیر سماعت ہے ۔ اس کے علاوہ مودی سے سکھوں کی دشمنی کی اور کوئی مستحکم بنیاد نہیں ہے۔ ہمیں نہیں پتہ کہ نریندر مودی کی جان کوکس سے خطرہ ہے ۔ البتہ ہمیں یہ ضرور معلوم ہے کہ نریندر مودی کا اپنا وجود ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ آر ایس ایس اس ملک کی سب سے بڑی دہشت گرد تنظیم ہے جس کے پروردہ نریندر مودی ہیں ۔ گجرات میں نریندر مودی نے مسلمانوں کا قتل عام کرکے آر ایس ایس کے خاکوںمیں ہی رنگ بھرا تھا۔ بی جے پی اسی آر ایس ایس کا سیاسی بازو ہے جس کی تشکیل سماج کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرکے اقتدار حاصل کرنے کے لیے ہوئی ہے۔ ان کے رہنماؤں کا قول وفعل اس کا واضح ثبوت ہیں۔ نریندر مودی میں آخر کون سے سرخاب کے پر لگے ہیں کہ بی جے پی نے انہیں وزارت عظمی کا امیدوار بنایا۔ وہ شخص جسے ملک تو کجا خود اپنی پارٹی کی تاریخ معلوم نہ ہو اسے اتنے اہم مرتبہ پر کیوں فائز کیا جارہا ہے؟ مودی کی سب سے بڑی خوبی اس کی دریدہ دہنی اور مسلم دشمنی ہے۔ یہ فرقہ پرست ذہنوں کی پسند ہے۔ اگر مودی نے گجرات میں مسلمانوں کا قتل عام نہ کیا ہوتا تو اس نام پر تو جہ بھی نہیں کی جاتی۔ فازشم کی علم بردار جماعت کے سب سے بڑے فاشسٹ کو امیدوار نہ بناتی تو کسے بناتی۔ اسے معلوم ہے کہ اس نام پر سیدھے سادے ہندو عوام کو پولرائز کر کے ان کا ووٹ بٹورا جاسکتا ہے۔

            بی جے پی حصول اقتدار کے لیے کچھ بھی کرسکتی ہے اور کسی بھی حد تک جاسکتی ہے۔ اس کے لیے اس کے پاس سب سے آسان نسخہ فرقہ وارانہ منافرت ہے۔ وہ دہشت گردانہ واقعات انجام دے کر اور مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرا کر خو دکو اکثریت کا مسیحا ثابت کرنا چاہتی ہے اور فرقہ وارانہ فسادات کے ذریعہ اقتدار کے حصول کی دھن میں ہے ۔ مظفر نگر فسادات میں اہم کردار ادا کرنے والے اور نفرت کی آگ پھیلانے والے سنگیت سوم اور سریش رانا کی عزت افزائی بی جے پی کی اسی ذہنیت کی عکاس ہے۔ آئندہ عام انتخاب اس کے لئے بے حد اہم ہیں کیونکہ اگر اس بار اسے اقتدار حاصل نہیں ہوا تو اس کا وجود خطرہ میں پڑ جائے گا۔ سیاسی اعتبار سے یہ اپنے بد ترین دور سے گذر رہی ہے۔ اس کے حلیفوں کی تعداد گھٹ کر دو پر آگئی ہے اور اس وقت وہ اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی ہے۔
            بات خطرہ کی ہورہی تھی ۔ ہمیں لگتا ہے کہ مودی کی جان کو خطرہ ہوسکتا ہے لیکن یہ خطرہ کسی اور سے نہیں خود آر ایس ایس سے ہے۔ جیسا کہ عرض کیا گیا اپنے مفاد کے حصول کے لئے یہ تنظیم کچھ بھی کرسکتی ہے۔ یہ بات قرین قیاس ہے کہ آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم ابھینو بھارت کے دہشت گردہی مودی کا کام تمام کردیں اور نتیجتاً پورے ملک میں مسلم کش فسادات شروع ہوجائیں اور بی جے پی کے لئے ہمدردی کی لہر پیدا ہوجائے اور اس کے لئے حصول اقتدار کی راہ آسان ہوجائے ۔اپنے مقصدکے حصول کے لیے یہ لوگ خود اپنے لوگوں کے قتل سے بھی گریز نہیں کرتے ہیں۔سنیل جوشی کا قتل اس کی مثال ہے ۔ویسے بھی جو لوگ گاندھی جی کو قتل کرسکتے ہیں ان کی نظر میں مودی کی کیا اوقات ہے ۔ خود مودی نے ہرین پانڈےا سمیت اپنے مخالفین کے ساتھ یہی سلوک کیا ہے۔ اس لئے ہماری مرکزی حکومت سے گذارش ہے کہ وہ بھلے ہی مسلمانوں کو تحفظ فراہم نہ کرے لیکن بی جے پی کی جانب سے مودی کے لئے ملک کی سب سے اعلی سیکوریٹی ایس پی جی (جو موجودہ اور سابق وزرائے اعظم اور ان کے کنبہ کے لیے مخصوص ہے) کا مطالبہ کیا جارہا ہے تو اسے ضرور فراہم کیا جائے ۔ کیونکہ زندہ مودی پھر بھی اتنا خطرناک نہیں ہوگا جتنا مردہ مودی۔مودی کے ذریعہ بی جے پی کو مسنداقتدار تک پہنچنا ہے اور بس۔چونکہ یہ برہمنی نظام کی حامی جماعت ہے اس لیے اگر یہ برسر اقتدار آبھی جاتی ہے تو وزیر اعظم کوئی برہمن ہی ہوگا ۔اس لئے ایسا لگتا ہے کہ مودی کی جان کو واقعی خطرہ ہے۔

یوم اقلیت اگر یوم احتساب ہوجاتا

یوم اقلیت اگر یوم احتساب ہوجاتا
                اقوام متحدہ نے اگر ۸۱ دسمبر کو یوم اقلیت قرار دیا ہے تو اس کا مقصد یہ ہے کہ دنیا میں جہاں بھی آبادی ، مذہب اور زبان یا نسلی اعتبار سے اقلیتیں موجود ہیں ان کے حقوق کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی جائے ۔ لیکن اگر نیت ہی درست نہ ہو تو دن کیا سال منالینے کے باوجود اقلیتوں کے حالات میں تبدیلی نہیں آئے گی۔ ورنہ اقوام متحدہ کی ناک کے نیچے امریکہ میں وہاں کی اقلیت کے ساتھ جو ناروا سلوک جاری ہے اس کی کیا توجیہ کی جاسکتی ہے۔
                ۸۱ دسمبر کو عالمی سطح پر یوم اقلیت منا یا گیا۔ اس تاریخ کو اقوام متحدہ نے یوم اقلیت قرار دیا ہے۔ چنانچہ اس حوالہ سے دنیا بھر کی طرح ہندوستان میں بھی مختلف تقریبات کا اہتمام کیا جاتا ہے، سمینار ، مذاکرے اور سمپوزیم ہوتے ہیں اور اقلیتوں کی حالت زار پر آنسو بہائے جاتے ہیں ، ان کے حقوق کی بحالی کی قسمیں کھائی جاتی ہیں، ان کے تحفظ کے سلسلہ میں عملی دشواریوں کے سد باب کی راہیں تلاش کی جاتی ہیں اور جشن کے ماحول میں جذباتی تقریریں کی جاتی ہیں جن سے ایسا محسوس ہوتا ہے حکومت اور حکومتی اداروں کو واقعی اقلیتوں کی فکر ہے اور وہ ان کے تحفظ، ترقی اور خوش حالی کے خواہاں ہیں۔ لیکن اس دن کا سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی تمام فکر مندیاں بھی ڈوب جاتی ہیں اور اقلیتیں سابقہ حالت پر برقرار رہتی ہیں۔ اقوام متحدہ نے اگر ۸۱ دسمبر کو یوم اقلیت قرار دیا ہے تو اس کا مقصد یہ ہے کہ دنیا میں جہاں بھی آبادی ، مذہب اور زبان یا نسلی اعتبار سے اقلیتیں موجود ہیں ان کے حقوق کے تحفظ پر خصوصی توجہ دی جائے ۔ لیکن اگر نیت ہی درست نہ ہو تو دن کیا سال منالینے کے باوجود اقلیتوں کے حالات میں تبدیلی نہیں آئے گی۔ ورنہ اقوام متحدہ کی ناک کے نیچے امریکہ میں وہاں کی اقلیت کے ساتھ جو ناروا سلوک جاری ہے اس کی کیا توجیہ کیا جاسکتی ہے۔
                سچی بات یہ ہے کہ دنیا میں اقلیتیں ہر جگہ ظلم ونا انصافی اور اکثریت کے استحصال کا شکار ہیں۔ اقلیت واکثریت کا پیمانہ تعداد ہے اور جمہوریت میں چونکہ بندوں کو تولنے کے بجائے گننے کا رواج ہے اس لیے جس طبقہ کی آبادی زیادہ ہوتی ہے وہ دیگر طبقات کی حق تلفی اپنا حق سمجھتا ہے۔ ہمارے ملک عزیز ہندوستان کے آئین نے ملک کے تمام شہریوں کو یکساں حقوق فراہم کیے ہیں ، اس کی رو سے رنگ ونسل یا زبان ومذہب کی بنیاد پر کسی قسم کی تفریق روا نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اقلیتوں کے حقوق نہ صرف تسلیم کیے گئے ہیں بلکہ ان کے تحفظ کی ضمانت بھی دی گئی ہے ۔ ان حقائق کے باوجود اقلیتوں کے ساتھ حکومتوں کی جانب سے جو سلوک روا رکھا گیا ہے وہ کسی سے مخفی نہیں ہے۔ مسلمان، سکھ، عیسائی ، بودھ اور پارسی یہاں کی مذہبی اقلیتیں ہیں جن میں مسلمان ملک کی سب سے بڑی اقلیت اور دوسری بڑی اکثریت ہیں۔ یوں تو تمام اقلیتیں ظلم وناانصافی کا شکار ہیں لیکن مسلمانوں کو اس کی مار زیادہ ہی جھیلنی پڑتی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ سکھ اور عیسائیوں کو اکثریت کی چیرہ دستیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا ہے۔ ۸۴۹۱ کے سکھ فسادات اور اڑیسہ میں عیسائیوں کے ساتھ جو کچھ ہواا س کی وجہ ان کا اقلیت میں ہونا ہی ہے۔ لیکن اقلیت ہونے کی سزا مسلمانوں نے جس قدر جھیلی ہے اس میں ان کا کوئی شریک نہیں ہے کیونکہ آزادی کے بعد سے ہی وہ مسلسل ظلم وجبر کی چکی میں پس رہے ہیں اور انہیں جبر کی اس وادی سے نکلنے کی کوئی راہ نظر نہیں آرہی ہے۔ اس ملک میں ان کی حیثیت فٹ بال کی ہے جسے ہر طرف سے ٹھوکر ہی ملتی ہے۔
                اس حقیقت کے باوجود کے مسلمانوں نے ملک کی آزادی کی خاطر عظیم قربانیاں پیش کیں اور ملک کی تعمیر وترقی میں بھی اپنا بھر پورکردار نبھانے کی کوشش کی ،وہ حکومت کی نا انصافی اور فرقہ پرستوں کی جارحیت کی چکی کے دو پاٹوں کے درمیان مسلسل پس رہے ہیں۔ یہ اس ملک کی بد نصیبی ہے کہ یہاں کی سب سے بڑی اقلیت جو ملک کی تعمیر وترقی میں ذمہ دارانہ کردار ادا کرسکتی تھی اور ملک کو خوش حال بنانے میں اس کا نمایاں حصہ ہوسکتا تھا آج خود اسے اپنے جینے کے لالے پڑے ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ اگر وہ خود اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی کوشش کرتی ہے تو اس کی ٹانگیں کھینچ دی جاتی ہیں۔ مسلسل فسادات نے اس کی چولیں ہلاکر رکھ دی ہیں۔ اس پر مستزاد دہشت گردی کے نام پر مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں اور انکاؤنٹر کے نام پر ان کے قتل نے ان کے عزم وحو صلہ کو پست کردیا ہے۔ جہاں کئی محروم طبقات نے بلندی کی بہت سی منزلیں طے کر لیں وہاں مسلمان آج بھی گھٹنوں کے بل چلنے پر مجبور ہیں اور انہیں اپنے جان ومال کے تحفظ کی فکر کھائے جارہی ہے اور ان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ تمام سیاسی جماعتوں نے ان کا استحصال کیا ہے۔ ان کے ووٹوں کی طاقت سے مسند اقتدار تک پہنچنے والی سیاسی جماعتوں نے انہیں کھوکھلے وعدوں کے سوا کچھ نہ دیا۔ ان کی ترقی کی باتیں تو خوب ہوئیں لیکن عملی سطح پر اس کے نفاذ کی نوبت نہیں آئی۔ اگر ملک کی حکومتیں ایماندار اور مخلص ہوتیں اور آئینی تقاضوں کو پورا کرتیں تو آزادی کے ۵۶ سال بعد مسلمانوں کے حصہ میں سچر کمیٹی کی رپورٹ نہیں آتی۔

                حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی ترقی وخوش حالی کے تعلق پالیسیاں تو خو ب ضع کی جاتی ہیں اور بڑے بلند وبانگ دعوے کئے جاتے ہیں لیکن عملا ان کا نفاذ نہیں ہوتا ہے۔ سچر کمیٹی کی سفارشات کا نفاذ اس کی واضح مثال ہے۔ سچر کمیٹی نے واضح کردیا کہ کس طرح سے اس ملک میں مسلمانوں کو سماجی ، تعلیمی اور اقتصادی طور پر حاشیہ پر لا کھڑا کردیا گیا ۔ ان کے ساتھ کیسا ہمہ گیر امتیازی سلوک کیا گیا اور آئینی ضمانتوں کے باوجود کیسے انہیں حق وانصاف اور مساوات سے محروم کیا گیا جس کے سبب وہ زندگی کے ہر میدان میں پیچھے ہوتے چلے گئے ۔ یہاں تک کہ ان کی حیثیت دلتوں سے بھی بد تر ہوگئی اور غربت ، جہالت ، گندگی بیماری ، بے روزگاری ، احساس کمتری اور مایوسی ان کی پہچان بن گئی۔ جہاں تک سچر کمیٹی کی سفارشات کے نفاذ کا معاملہ ہے اگر مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کے دعوی پر یقین کیا جائے تو حکومت نے ۶۷ میں ۲۷ سفارشات منظور کر لی ہیں۔ لیکن اگر یہ سچ ہے تو اس کے مثبت اثرات نظر کیوں نہیں آرہے ہیں۔ حکومت لاکھ دعوے کرے لیکن صورتحال اس کے برعکس نظر آرہی ہے۔ سچر کمیٹی کے ممبر سکریٹری ڈاکٹر ابو صالح شریف کے مطابق سچر کمیٹی کے آنے کے بعد مسلمان اور زیادہ پسماندہ ہوئے ہیں ۔ اس کی سب سے واضح مثال وہ اعداد وشمار ہیں جو خود حکومت نے لوک سبھا میں ایک ممبر پارلیمان کے سوال کے جواب میں ملازمتوں کے سلسلہ میں پیش کئے۔ اس کے مطابق سرکاری شعبوں میں مسلمانوں کی نمائندگی میں اضافہ تو دور ان کی تعداد میں کمی واقع ہورہی ہے۔ سچر کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں وزیر اعظم کے پندرہ نکاتی پروگرام پر نظر ثانی کی گئی اور گیارہویں پنچ سالہ منصوبہ میں اقلیتوں کی فلاح کے لیے کئی نئی اسکیمیں شروع کی گئیں جن میں اسکالر شپ اور ملٹی سیکٹرل ڈیولپمنٹ پروگرام شامل ہیں۔ کسی حد تک اسکا لر شپ کا فائدہ تو مسلمانوں کو پہنچ رہا ہے لیکن ایم ایس ڈی پی کا فائدہ نظر نہیں آرہا ہے۔ سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن دونوں نے اعلی اختیارات والے عہدوں اور مناصب میں مسلم فرقہ کی متناسب نمائندگی کی سفارش کی تھی۔ اس وقت مرکزی سطح پر ۱۵ وزراتیں ۷۵ محکمے ، ۸۲ اعلی اختیارات والے ادارے ، ۲۹ کمیشن اور ۳۵۰۱ سے زائد خود مختار ادارے ہیں ۔ لیکن اقلیتی کمیشن اور دیگر چند کمیشنوں اور بورڈوں کے علاوہ مسلمان کہیں نظر نہیں آتے ہیں۔ مرکزی حکومت ہی طرح صوبائی حکومتیں بھی مسلمانوں کے ساتھ کھلواڑ کرتی آئیں ہیں ۔ تمام حکومتوں نے ان کی فلاح وبہبود کی بجائے ان کی پسماندگی میں اضافہ ہی کیا اور تعلیمی ، معاشی ، سماجی اور سیاسی طور پر ان کی کمر توڑنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
                اس صورتحال میں یوم اقلیت کے انعقاد کی حیثیت ایک تماشہ سے زیادہ نہیں ہے۔ لیکن ہمیںمعلوم ہے کہ یہ تماشہ آئندہ بھی ہوتا رہے گا۔ اس لیے کیوں نہ ہم اس دن کو یوم احتساب بنالیں۔ ملک کا موجودہ منظر نامہ اس بات کا متقاضی ہے کہ مسلمان خوداپنا احتساب کریں اورحکومتوں کے سامنے کاسہ گدائی لے کر پھرنے کی بجائے اس بات پر غور کریں کہ وہ موجودہ صورتحال کو کیسے اپنے لئے موافق بناسکتے ہیں۔ ان کو اس صورتحال تک پہنچانے میں اگر حکومتوں اور فرقہ پرست طاقتوں نے اپنا اپنا کردار ادا کیا ہے تو خود مسلمان بھی اس کے لیے کم ذمہ دار نہیں ہیں ۔ حکومتی رویہ کا رونا رونے کی بجائے مسلمان اپنی داخلی کمزوریوں کو دور کریں اور مختلف حوالہ سے ان کے درمیان اختلافات کی جو وسیع خلیج حائل ہے اس کو پاٹیں اور متحد ہوکر آبرو مندانہ زندگی جینے کی سعی کریں۔ یہ بات یقینی ہے کہ اگر مسلمان اپنی صفوں کو درست کرلیں تو حکومتوں اور سیاسی جماعتوں کو اپنے رویوں میں تبدیلی لانے پر مجبور ہونا پڑے گا۔ فسادات ، دہشت گردی اور سیاسی تعصبات کے شکار مسلمانوں کے لیے ضرور ی ہوگیا ہے کہ حکومتوں کی جانب دیکھنے کی بجائے اپنے حالات کی اصلاح کے لیے خود اٹھ کھڑے ہوں۔ مجھے نہیں پتہ کہ ایسے لوگوں کی تعداد کتنی ہے جو یوم اقلیت سے واقف ہیں لیکن جو لوگ بھی واقف ہیں وہ اگر اسے اپنے لئے یوم احتساب بنالیں تو انقلاب آسکتا ہے جس کی شدید ضرورت ہے۔