ہفتہ، 22 فروری، 2014

مسلم ڈاکٹروں کی تنظیم

مسلم ڈاکٹروں کی تنظیم
بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی

                چند دنوں قبل اخبارات میں ملی سرگرمیوں کے حوالہ سے ایک خوش آئند خبر پڑھنے کو ملی ۔ ۱۰ فروری کے اخبارات نے پٹنہ میں ایسوسی ایشن آف مسلم ڈاکٹرس کی پانچویں ریاستی اور پہلی قومی کانفرنس کے انعقاد کی رپورٹ شائع کی جس سے پتہ چلا کہ مسلم ڈاکٹروں کی یہ تنظیم ۲۰۰۹ء میں قائم ہوئی۔ ابتدا میں اس کے ۳۰ ممبران تھے اور اب ان کی تعداد ۱۰۰ سے زیادہ ہوچکی ہے نیز پٹنہ، مظفرپور ، دربھنگہ اور پورنیہ میں اس کی شاخیں بھی قائم ہوچکی ہیں۔ اس تنظیم کے اغراض و مقاصد میں مذہبی و سماجی تناظر میں سائنسی حقائق کا اطلاق ، طبی خدمات میں میڈیکل او ر اسلامی ضابطہ اخلاق کی پابندی ، ہمدردی و مساوات اور اسلامی اقدار کا پاس و لحاظ رکھنا، مسلمانوں کی صحت کے مسائل اور میڈیکل سائنس پر اسلام کے اثرات کا مطالعہ شامل ہیں۔ کانفرنس میں ہونے والی تقریروں میں مسلمانوں کے اندر اتفاق و اتحاد کے فقدان پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور عمومی اتحاد کے ساتھ ہی دانشوروں کی صفوں میں اتحاد کو بھی ملت اسلامیہ کے مفاد میں ضروری قرار دیا گیا ۔ تنظیم کے ذمہ داروں نے کہا کہ مسلم ڈاکٹروں کا اتحاد وقت کی ایک بڑی ضرورت ہے جسے شدت سے محسوس کرتے ہوئے اس تنظیم کی تشکیل کی گئی ۔ بتایا گیا کہ چونکہ مسلم ڈاکٹروں میں ہم مذہب ہونے کے علاوہ زبان ، تہذیب،وراثت اور بڑی حد تک پسند اور ناپسند میں بھی یکسانیت پائی جاتی ہے اس لئے ان کا اتحاد اہم ہے اور اس تنظیم کے ذریعہ صحت کے مسائل پر غور و فکر اور اسلامی اخلاق و آداب کے ساتھ انسانیت کے مفاد میں کام کرنے کے لئے ڈاکٹروں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیا گیا ہے ۔ کانفرنس میں جھارکھنڈ ، بنگال اور دیگر ریاستوں کے ڈاکٹروں نے شرکت کرکے اتحاد کا مظاہر کیا اور ملت کو بھی اپنے فروعی اختلافات کو ختم کرکے اتحاد کے ساتھ زندگی گذارنے اور درپیش چیلنجوں کے مقابلہ کرنے کا پیغام دیا۔ ایسے وقت میں جب کہ انسانی خدمات سے متعلق تمام پیشوں میں زیادہ سے زیادہ دولت کا حصول مقصد زندگی بن گیا ہے اور انسانی مفاد میں کام کرنے کا جذبہ دم توڑ رہا ہے مسلم ڈاکٹروں کی اس تنظیم کو ’بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی‘ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔
                صحت اور مرض کا تعلق براہ راست جسم انسانی سے ہے اس لئے حیات انسانی میں اسے ہمیشہ بنیادی اور ترجیحی حیثیت حاصل رہی ہے ۔ اچھی صحت کے بغیر انسان نہ تو دنیاوی لذتوں سے آشنا ہوسکتا ہے اور نہ ہی اپنی ان ذمہ داریوں سے عہدہ بر آ ہوسکتا ہے جو اس پر اشرف المخلوقات ہونے کی حیثیت سے عائد ہوتی ہیں ۔ اس طرح بیماریوں سے پاک اور صحت مند رہنا ہر انسان کی ضرورت ہے۔ چنانچہ خدمات انسانی کے شعبوں میں طب کو زبردست اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس کا براہ راست تعلق خدمت خلق سے ہے ۔ اس اعتبار سے تمام ڈاکٹروں بلکہ علاج و معالجہ سے وابستہ تمام افراد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے پیشہ کے تئیں مخلص اور ایماندار ہوں اور صحت مند سماج کی تشکیل کے لئے اپنی ذمہ داریوں کو انجام دیں ۔ لیکن مسلمان ہونے کی حیثیت سے یہ ذمہ داری اور بڑھ جاتی ہے ۔ مسلم ڈاکٹر جس شریعت کے پیروکار ہیں اس کا تقاضہ ہے کہ وہ اپنے وجود کو صرف اپنے لئے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے مفید ثابت کریں ۔ خدمت خلق کا جذبہ ہمیشہ ان کے پیش نظر رہنا چاہئے اوراسے صرف ذریعۂ معاش یا مریضوں کے استحصال کا ذریعہ ہرگز نہیں بننے دینا چاہئے ۔ آج صورت حال یہ ہے کہ طب و صحت کا میدان جتنا اہم ہے اسی قدر اس میں لوٹ کھسوٹ کا بازار بھی گرم ہے ۔ ڈاکٹر جنہیں کبھی مسیحا کہا جاتا تھا قاتل بنے بیٹھے ہیں ، حکومتی بے اعتنائیوں کے علاوہ ڈاکٹروں ، اسپتالوں اور صحت عملے کے غیر انسانی رویہ نے علاج و معالجہ کو اس قدر دشوار بنا دیا ہے کہ اب یہ کام عام انسان کے بس سے باہر ہورہا ہے ۔ مریضوں کے ساتھ ڈاکٹروں کا غیر ہمدردانہ سلوک ضرورت سے زیادہ فیس ، مریضوں پر غیر ضروری جانچ کا بوجھ ، سستی دوائوں کی موجودگی کے باوجود مہنگی دوائیں تجویز کرنا، مخصوص لیب میں جانچ کرانے کی تاکید اور اس کی پابندی نہ کرنے پر رپورٹ کوغیر معیاری قرار دینا عام بات ہے۔ ڈاکٹر جو اپنے پیشہ کے تئیں ایمانداری اور مریضوں سے ہمدردی کا حلف لے کر میدان عمل میں آتے ہیں پریکٹس شروع کرتے ہی طبی اخلاقیات کو طاق نسیاں کے حوالہ کر دیتے ہیں ۔ اس صورت حال میں میڈیکل اور اسلامی ضابطۂ اخلاق پر عمل کے جذبے کے ساتھ خلق خدا کی خدمت کے لئے ایسوسی ایشن کا قیام بے حد لائق تحسین ہے اور تمام مسلم ڈاکٹروں کو اس تنظیم سے وابستہ ہوجانا چاہئے نیز اس کے دائرئہ کار کو وسیع کرنا چاہئے ۔ یہ نہ صرف خود ڈاکٹروں کی دنیا اور آخرت بہتر بنانے کا ذریعہ ہوگا بلکہ تبلیغ اسلام کا بھی ایک اہم وسیلہ ثابت ہوگا۔
                یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ہندوستانی مسلمان تعلیمی ، معاشی ، سماجی اور سیاسی پسماندگی کا شکار ہیں جس کے لئے سیاسی سازشوں کے علاوہ خود ان کا اپنا رویہ بھی کم ذمہ دار نہیں ہے بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ وہ اپنی شامت اعمال کے نیتجہ میں ہی اس صورت حال سے دوچار ہیں ۔ وہ یہ بھول بیٹھے ہیں کہ وہ ایک نظریاتی گروہ ہیں جسے دنیا میں خیر امت بناکر بھیجا گیا ہے ۔ انہیں اپنی تاریخ پر فخر تو ہے لیکن وہ اس سے سبق حاصل کرنے کو تیار نہیں ہے حالانکہ اگر ماضی کے آئینہ میں اپنے موجودہ زوال کا حل تلاش کریں تو وہ پھر زمانہ کی امامت و قیادت کے حقدار ہوسکتے ہیں ۔ ماضی میں انہیں برتری اور سرخروئی اپنے دین سے والہانہ تعلق ، علوم و فنون میں مہارت اور تحقیق و جستجو سے حاصل ہوئی ، انہوں نے سماج کے مجبوروں ، محکوموں، بے کسوں اور کمزوروں کی دست گیری کی ، دنیا کی بھلائی صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رکھی بلکہ انسانی معاشرہ کی صلاح و فلاح اور خدمت خلق کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا۔ ان کے اخلاق وکردار کی بلندی نے انہیں عام انسانوں کی نگاہ میں بلند کردیا جب کہ آج وہ اپنی عملی و اخلاقی کوتاہی کے سبب بے وزن ہوکر رہ گئے ہیں۔ پہلے مسلمان اپنے کردار و عمل کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے جب کہ آج کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ وہ جس سماج میں رہتے ہیں اس پر ان کی کوئی چھاپ نہیں ہے ، وہ عملاً سماج کے لئے غیر متعلق ہوکر رہ گئے ہیں۔ چونکہ سماج کے کمزور ، محروم اور ضرورت مند طبقوں کے تعلق سے وہ کچھ نہیں سوچتے اس لئے ان کا وزن بھی محسوس نہیں کیا جاتا ہے ۔ موجودہ حالات میں تعلیمی معاشی اور سیاسی میدان میں برادران وطن کے مقابلہ میں آنا ان کے لئے بیحد مشکل ہے لیکن وہ اپنی اخلاقی قوت کے ذریعہ اپنا وزن محسوس کر اسکتے ہیں۔ اگر وہ رحمت و شفقت اور اعلیٰ اخلاقی قدروں کے سفیر بن جائیں تو زندگی کے دوسرے شعبوں میں پچھڑنے کے باوجود وہ اپنی عظمت اور اہمیت کا احساس کرا سکتے ہیں کیونکہ یوں تو اس ملک میں سب کچھ ہے لیکن اخلاقی قدروں کا زبردست فقدان ہے اور اس خلا کو رسول رحمت کی امت ہی پورا کر سکتی ہے ۔اگر ہر شعبہ کے مسلمان اپنی دینی و منصبی ذمہ داری کا ادراک کر لیں تو انقلاب لا سکتے ہیںجس کی اشد ضرورت ہے ۔خدمت خلق، انسانیت کی خیر خواہی اور بھلائی کا درس ہمیں اپنے رسول کی زندگی سے ملتا ہے۔ آپ کی حیات مبارکہ میں انسانیت پسندی کے متعدد پہلو نظر آتے ہیں ۔ آپ اپنے اہل خانہ ،ساتھیوں ،خویش و اقارب ، پڑوسی ، غلام ، بچے ، بوڑھے، کمزور طبقات ، فقرا و مساکین سب کے لئے درد مند دل رکھتے تھے حتی کہ آپ کی شفقت و ہمدردی جانوروں کو بھی حاصل تھی ۔ خدمت انسانی کے اس رویہ سے متاثر ہوکر غیر مسلم جوق در جوق اسلام میں داخل ہوئے اور جن لوگوں نے اسلام کو نیست و نابود کر دینے کا بیڑا اٹھایا تھا انہوں نے بھی اسلام کے دامن عافیت میں پناہ لی ۔ آج مسلمان ملک میں دھرتی کا بوجھ سمجھے جارہے ہیں اور ان پر عرصۂ حیات تنگ کیا جارہا ہے لیکن اگر وہ خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار ہوکر میدان عمل میں آئیں تو وہ سماج کی ناگزیر ضرورت بن سکتے ہیں۔ اگر وہ اپنے کردار و عمل سے ثابت کردیں کہ وہ صرف اپنے لئے نہیں جیتے ہیں بلکہ سب کے دکھ درد میں کام آنے والے ہیں ، بھوکوں ، ننگوں ، مریضوں، بیوائوں ، یتیموں ، ضرورت مندوں اور محتاجوں کی دست گیری کرنے والے ہیں تو وہی لوگ جو آج انہیں دھرتی کا بوجھ سمجھ رہے ہیں اپنی آنکھوں کا تارا بنا لیں گے اور اپنے سر وں پر بیٹھانے کے لئے خود کو مجبور پائیں گے ۔ یہی وہ میدان ہے جس میں مسلمان آسانی سے برداران وطن سے سبقت لے جاسکتے ہیں لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ ان کے اندر مسلمان ہونے کا احساس پیدا ہوجائے۔
                جیسا کہ سطور بالا میں عرض کیا گیا کہ چونکہ ڈاکٹروں کا تعلق براہ راست عام لوگوں سے ہوتا ہے اس لئے وہ اگر اپنے پیشہ میں اسلامی اصول و آداب کا پاس و لحاظ رکھیں تو صرف انہیں کے ذریعہ انقلاب آسکتا ہے ۔ ڈاکٹر چونکہ مریضوں کے علاج میں اپنی توانائی اور وقت صرف کرتے ہیں اس لئے مریضوں سے فیس لینا ان کا حق ہے ، انہیں پورا اختیار حاصل ہے کہ وہ عصری تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے مریضوں سے پیسے لیں لیکن آج جس طرح سے لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے اور مریضوں پر بے انتہا بوجھ ڈالا جارہا ہے نیز ڈاکٹر دواساز کمپنیوں کے اشتہار کے طور پر کام کر رہے ہیں اس کا کوئی جواز نہیں ہے اور مسلم ڈاکٹر اس سے احتراز کر لیں تو وہ ممتاز مقام حاصل کر سکتے ہیں۔ اپنے علم و فن اور مریضوں کے تئیں اخلاص ان کا سرمایہ ہونا چاہئے۔ اس وقت صحت کا مسئلہ عالم گیر نوعیت کا حامل بن گیا ہے اور اس کے حل کے لئے اسی سطح پر کوششیں بھی ہورہی ہیں ۔ خود ہمارے ملک میں بھی صحت کے تئیں عوامی شعور بیدار کرنے کے لئے کوششیں کی جارہی ہیں جس کا فائدہ بھی نظر آرہا ہے  لیکن مسلمان بالعموم اپنے اندر تبدیلی نہیں پیدا کر رہے ہیں ، ایسوسی ایشن آف مسلم ڈاکٹرس کو اس پر بھی توجہ دینی چاہئے ۔ اسی طرح میڈیکل سائنس کی ترقی نے نت نئے مسائل بھی پیدا کئے ہیں اس سلسلہ میں اسلامی موقف کی وضاحت اور اس پر عمل ضروری ہے جس کی طرف کانفرنس میں اشارہ بھی کیا گیا ہے۔ بہر حال مسلم ڈاکٹروں کی یہ تنظیم جس مقصد کے تحت قائم کی گئی ہے وہ بلاشبہ اہم ہے اور ہم اور ہمارے جیسے عام لوگوں کی تمام تر نیک خواہشات اس کے ساتھ ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ دیگر پیشوں سے وابستہ مسلمانوں کے لئے یہ تنظیم قابل تقلید نمونہ بنے گی ۔ الحمد للہ انسانی خدمات کے دیگر شعبوں میں بھی مسلمان موجود ہیں ، اگرچہ ان کی تعداد کم ہے اور وہ منتشر ہیں ۔ اگر تمام پیشوں سے وابستہ افراد انہیں بنیادوں پر اپنی اپنی تنظمیں قائم کر لیں تو اس کے اچھے اثرات ظاہر ہوں گے اور اس سے نئی نسل کو بھی آگے بڑھنے کا حوصلہ ملے گا ۔  ساتھ ہی اگر مسلمان اپنی اور اپنے سماج کی اصلاح کے ساتھ ساتھ سیاست، معاش اور تعلیم کو بھی اخلاقی قدروں کا پابند بنانے کی ٹھان لیں اور معاشرہ کے کمزور ،محروم ، مجبور اور بے سہار الوگوں کا سہارا بننے اور ان کے درد کی مسیحائی کرنے کی کوشش کریں اور اخلاقی قوت بن کر ابھریں تو وہ اس ملک کے لئے غیر معمولی اثاثہ ثابت ہوسکتے ہیں اور یہی ان کا اصل کردار اور مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔
               
                                                                                                              

بدھ، 12 فروری، 2014

فاطمی کمیٹی رپورٹ:تجزیاتی مطالعہ


فاطمی کمیٹی رپورٹ:تجزیاتی مطالعہ

ہندوستان میں آزادی کے بعد سے مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس کا نتیجہ سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن کی رپورٹ کی شکل میں آیا ہے جس کی رو سے مسلمان ہندوستان میں دلتوں سے بدتر حالت میں ہیںاور یہ سفارش کی گئی کہ مختلف شعبوں میں خصوصی مراعات دے کر ان کے حالات کو ٹھیک کیا جائے۔ اس کمیشن کا مقصدمسلمانوں کے حالات کا پتہ لگاکر ان کے حقوق دینے تھے یا انہیں ماضی کی طرح رپورٹ شائع کر کے خوش کرنا تھا یہ اب بالکل ظاہر ہوگیا ہے اوراقلیت کے نام پر جتنی اسکیمیں چلائے جانے کا دعوی کیا جارہا ہے ان کا فائدہ مسلمانوں کو بہت کم مل رہا ہے۔ بہر حال مسلمانوں کی بد حالی کا اندازہ اس سے قبل بھی کیا جاتا رہا ہے جو عام طور پر مختلف علاقوں میں مسلمانوں کی تعلیمی ، سماجی اور اقتصادی پسماندگی کے مجموعی تاثر کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا جاتا تھا لیکن سچر کمیٹی نے اعداد وشمار کی روشنی میں اس کو ثابت کردیا اور اس طرح اس پرخود حکومت کی مہر لگ گئی۔ اس رپورٹ نے کسی کی آنکھ کھولی یا نہ کھولی حکومت کو ضروریہ سوچنے پر مجبور کیا کہ ملک میں مسلمانوں کو جس طرح سے ٹھگا گیا ہے اس رپورٹ کے بعد مسلمانوں نے اگراس کا احساس کر لیا تو بر سر اقتدار پارٹی کے لیے اپنا وجود باقی رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔ چنانچہ سچر کمیٹی کی سفارشات کا گہرائی سے مطالعہ کرنے اور اس ضمن میں حکومت کی کاوشوں کو بروئے کار لانے کے لئے لائحہ عمل تیار کرنے کی غرض سے حکومت ہند کی وزارت فروغ انسانی وسائل کے وزیر مملکت مسٹر ایم اے اے فاطمی کی قیادت میں ایک اور کمیٹی تشکیل دی گئی جسے فاطمی کمیٹی اور بعد میں ہائی لیول کمیٹی ۔ منسٹری آف ایچ آر ڈی سے موسوم کیا گیا ۔
اس کمیٹی کو ذمہ داری دی گئی کہ سچرکمیٹی نے مسلمانوں کے تعلق سے جس تشویشناک صورت حال کا انکشاف کیا ہے اس کا جائزہ لے کر کوئی ٹھوس لائحہ عمل طے کیا جائے ۔ اس میں بطور خاص تعلیم کو خاص اہمیت دی گئی جس میں مسلم کمیونٹی کی تعلیم تک رسائی کے ساتھ مسلم علاقوں میں واقع اسکول کے انفراسٹرکچر کی تقابلی سطح کا پتہ لگانا شامل ہے۔ چنانچہ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے سیاق وسباق میں بنیادی ، سکینڈری ، اعلی وتکنیکی خواندگی اور تعلیم کی تمام سطحوں پر نافذ تمام موجودہ اسکیموں کا از سر نو جائزہ لیاگیا۔ اس سلسلہ میں مختلف علاقوں میں مسلم بچوں کی تعلیمی شرح کا جائزہ لیتے ہوئے ان اسباب پر غور کیا گیاجن کی وجہ سے مسلم بچوں میں تعلیمی شرح کم ہوتی ہے۔
                تمام جہتوں سے جائزہ اور واقف کاروں سے مشورہ کے بعدفاطمی کمیٹی نے جو منصوبہ پیش کیا ہے وہ نہ صرف لائق عمل ہے بلکہ اس پر عمل کیا جائے تو جہاں مسلمانوں میں کی تعلیمی شرح میں اضافہ ہوگا وہیں ملک کی ترقی میں تیزی آئے گی۔ کیونکہ کمیٹی نے محسوس کیا کہ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی تیز تر قومی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ثابت ہورہی ہے۔ چنانچہ مسلم علاقوں میں اسکول اور کالج کھولنے کی سفارش کی گئی اور کہا گیا کہ مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی ان کی معاشی پسماندگی کا بھی سبب ہے ۔ ہندوستان میں جو ریزرویشن سسٹم ہے جس کے بارے میں آئین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ ملک میں مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں دیا جاسکتا ہے۔ فاطمی کمیٹی نے حوصلہ کے ساتھ اس پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل کو جو ریزرویشن دیئے جارہے ہیں اس میں صرف مذہب بنیاد ہے اور مسلمانوں میں موجود دلتوں کو ہم پیشہ کمیونٹی کو صرف مذہب کی وجہ سے ان کی مراعات نہیں دی جارہی ہیں ۔ فاطمی کمیٹی نے اس قانون میں اصلاح کی سفارش کی ہے۔
فاطمی کمیٹی نے محسوس کیا کہ ملک کے مختلف حصوں میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے کم از کم چار کیمپس لازمی طور پر قائم کئے جانے چاہئیں۔ اس نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسکولوں اور کالجوں کے قیام میں ریاستی حکومتیں کامیاب نہ ہوں تو اس ضمن میں مرکزی حکومت کو اقدام کرنا چاہیے۔ اس کی سب سے اہم سفارش یہ ہے کہ مسلمانوں میں تعلیمی شرح بڑھانے کے لیے ضروری ہے کہ ان کا ذریعہ تعلیم اردو کیا جائے۔اس میں صاف طور پر کہا گیا ہے کہ اردو کو نظر انداز کیا جانا اس بات کی علامت ہے کہ سہ لسانی فارمولہ نافذ نہیں کیا جارہا ہے ۔ پرائمری تعلیم مادری زبان میں دی جائے۔ یہ تب ہی ممکن ہے کہ جب اردو جاننے والے اساتذہ کی بڑی تعداد میں تقرری ہو اور جہاں ضروری ہو وہاں پارا ٹیچرس بھی مہیا کرائے جائیں۔ کیندریہ ودیالیہ کے اسکول کھولنے کے لیے ایسے اضلاع منتخب کیے جائیں جہاں مسلمانوں کی بڑی آبادی بستی ہے۔
پیشہ ورانہ تعلیم مہیا کرانے کے لیے مسلم طبقہ کی ہمت افزائی کی جائے اور اسے اس قسم کے ادارے کھولنے کی اجازت دی جائے۔
ایسے علاقوں کی نشاندہی کی جائے جہاں مسلمانوں کی تعداد 5000 سے زیادہ ہے وہاں اسکول کھولے جائیں ۔ ایسے تقریبا 2000 اسکولوں کی ضرورت ہے۔
یہ کچھ اہم سفارشات ہیںجو فاطمی کمیٹی نے پیش کی ہیں۔
                                حقیقت یہ ہے کہ آزادی کے بعد سے آج تک مسلمانوں کی تعلیمی فلاح کے لیے اس طرح کا مربوط لائحہ شاید پہلی مرتبہ حکومت کے سامنے رکھا گیا ہے۔ لیکن سچی بات یہ ہے کہ یہ جتنی اچھی رپورٹ ہے اس سے زیادہ تر مسلمان ناواقف ہیں ۔ عوام تو عوام خواص نے بھی صرف نام سنا ہے ۔ورنہ جس جانفشانی کے ساتھ یہ رپورٹ تیار کرکے حکومت کے سامنے پیش کی گئی ہے اگر مسلم خواص اور عوام کی طرف اس کے نفاذ کا مطالبہ اسی ڈھنگ سے کیا جاتا تو ناممکن نہیں تھا کہ اس کے کم از کم کچھ حصوں پر عمل بھی ہوجاتا ۔
                                جنا ب علی اشرف فاطمی مسلم مسائل کے حوالے سے ہمیشہ سنجیدہ رہے ہیں اور بطور خاص ان کے تعلیمی مسائل پر ہمیشہ توجہ دی ہے۔ وہ ان کی تعلیمی ترقی کے تئیں سنجیدہ فکر رکھتے ہیں اور اس کا اثر پوری رپورٹ میں محسوس ہوتا ہے۔ ڈاکٹر امام اعظم مبارک باد اور شکریہ کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس رپورٹ کی اہمیت کے پیش نظر دانشوروں اور تعلیمی و سماجی سروکار رکھنے والے افراد سے فاطمی کمیٹی رپورٹ کا تجزیاتی مطالعہ کراکے ”فاطمی کمیٹی رپورٹ:تجزیاتی مطالعہ“ کے نام سے مرتب اور شائع کرادیا ہے۔ اس کتاب میں مولانا محمود مدنی کے پیغام ، مولانا اسرار الحق قاسمی کی تقریض اور مرتب ڈاکٹر امام اعظم کے پیش لفظ کے علاوہ تیرہ مضامین شامل ہیں جن میں کمیٹی کی پیش کردہ تجاویز اورسفارشات کا کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا ہے ۔ ڈاکٹر امام اعظم نے ان مضامین کو کتابی صورت نہ دی ہوتی تو لوگ فاطمی کمیٹی رپورٹ سے ناواقف رہ جاتے اور یہ بھی دیگر حکومتی رپورٹوں کی طرح کیڑوں کی خوراک بن جاتی۔ حکومتی سطح پر اس پر کس قدر عمل در آمد ہوا یہ الگ موضوع ہے لیکن ان کے سامنے آنے کے بعد اتنا تو ضرور ہوا کہ کسی نہ کسی سطح پر مسلمانوں میں بیداری آئی، یہ الگ بات ہے کہ بیدار ہونے میں کافی وقت لگا ۔ اس کے باوجود یہ سوال بہر حال قائم ہے کہ کیا مسلمان ان سفارشات کے پیش ہوجانے کے بعد حکومتی سردمہری کے خاتمہ کے لئے کوئی اقدام کریں گے ۔ یوپی اے حکومت اپنی دو میعادیں مکمل کر کے رخت سفر باندھ رہی ہے اور عام انتخاب کی آہٹ سنائی دینے لگی ہے ۔ اگر مسلمانوں نے اس رپورٹ کی اہمیت کو سمجھ لیا تو وہ اسے انتخابی ایشو بناسکتے ہیں ۔ہماری غور و فکرکااایک زاویہ یہ بھی ہونا چاہئے کی کیا حکومت ہمارے تمام مسائل حل کرسکتی ہے ۔ بدقسمتی سے مسلمانوں نے اپنی ترقی کا انحصار حکومت کی نظر عنایت پر تسلیم کر لیا ہے ۔ جب بھی ان کی تعلیمی ، معاشی ، سماجی اور سیاسی صورت حال کی بات سامنے آتی ہے تو وہ حکومت کو مورد الزام ٹھہرانا شروع کر دیتے ہیں۔ گو کہ یہ بات صد فیصد درست ہے لیکن اگر حکومتیں مخالفانہ رویہ رکھتی ہیں تو کیا ہمیں ان پر بھروسہ کرکے اپنی ساری تگ و دو چھوڑ دینی چاہئے ۔ یہ ذکر نامناسب نہیں ہے کہ حکومت کے کرنے کے جو کام ہیں ان پر عمل درآمد کے لئے ہمیں متحد ہوکر مطالبہ کرنا چاہئے لیکن ساتھ ہی جو کام خود ہمارے اپنے کرنے کے ہیں ان پر بلاتاخیر عمل پیرا ہوجانا چاہئے ۔اگر ان دونوں پہلوں پر توجہ ہو تو کامیابی یقینی ہے ۔
                                کتاب میں شامل تمام مضامین لائق مطالعہ ہیں اور محنت سے لکھے گئے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ کتاب کو مقبولیت بھی حاصل ہوئی ۔ چنانچہ اس کا پہلا ایڈیشن ہاتھوں ہاتھ نکل گیا اور اشاعت ثانی کی نوبت آگئی ۔ اس دوسرے ایڈیشن میں بطور ضمیمہ ظفر آغا ، سید علی اور شاہد اقبال کے مضامین بھی شامل کر دیئے گئے ہیں جن سے کتاب کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے ۔ کتاب کی پشت پر پروفیسر اخترالواسع کی گراں قدر آراءتحریر ہیں ۔ امید ہے کہ مسلمان اس کتاب سے روشنی حاصل کرتے ہوئے اپنے مسائل کے حل کے لئے بہتر حکمت عملی کے ساتھ پیش قدمی کریں گے۔

منگل، 11 فروری، 2014

دہشت گردی ، شاہد علی خان اور مسلمان

دہشت گردی ، شاہد علی خان اور مسلمان


                دہشت گردی اپنے انجام کے اعتبار سے جتنی ہلاکت خیز ہے بد قسمتی سے ہمارے ملک کے سیاست دانوں کے لیے وہ اتنی ہی مفید ہے۔ البتہ اگر اس کا نقصان کسی کو بھگتنا پڑتا ہے تو وہ اس ملک کے مسلمان ہیں ۔ عموما انہی کے ٹھکانوں پر دہشت گردانہ حملے ہوتے ہیں، وہی ہلاک ہوتے ہیںاور انہیں ہی مورد الزام ٹھہراکر داخل زنداں کیاجاتا ہے ۔ جہاں کہیں کوئی دہشت گردانہ حملہ ہوا بغیر کسی ثبوت کے مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں شروع ہوجاتی ہیں ۔ آج ہزاروں مسلمان برسوں سے جیلوں میں بند اپنے جرم بے گناہی کی سزا بھگت رہے ہیں لیکن کوئی ان کا پرسان حال نہیں ہے۔ حالانکہ سب کو معلوم ہے کہ حقیقی دہشت گرد کون ہیں اور ان کے عزائم کیا ہیں۔ ملک میں دہشت گردی کا آغاز ناتھو رام گوڈسے نے مہاتما گاندھی کو قتل کر کے کیا اور آج اس کی اولادیں یہ فریضہ انجام دے رہی ہیں۔ پہلے یہ بات صرف مسلمان کہتے تھے یا وہ لوگ جن کی آوازیں سنی نہیں جاتی تھیں لیکن اب دہشت گردانہ حملوں میں سنگھ پریوار کے شامل ہونے کے پختہ ثبوت سامنے آچکے ہیں۔ آنجہانی ہیمنت کر کرے نے پہلی بار بھگوا دہشت گردی کا انکشاف کیا تو اب نمونہ عبرت بن چکے معمر سیاست داں لال کرشن اڈوانی بھی تلملا اٹھے جنہوں نے یہ محاورہ رائج کر کے کہ ’ہرمسلمان دہشت گرد نہیں لیکن ہر دہشت گرد مسلمان ہوتا ہے‘ حقیقی دہشت گردوں کے کردار کو چھپانے کی کامیاب کوشش کی تھی۔ ہیمنت کر کر ے کے انکشاف کے بعد یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ اب حقیقی دہشت گردوں کو پکڑا جائے گا اور بے قصوروں کی گرفتاریاں بند ہوں گی لیکن بد قسمتی سے ایسا نہ ہوسکا ۔ البتہ اس کی کی پاداش میں خود ان کی زندگی کا باب بند کردیا گیا اور بھگوا دہشت گردوں کی گرفتاریوں کے بعد خفیہ ایجنسیاں اپنی قدیم روش پر گامزن ہوگئیں ۔ انہیں پھر سے ہر واقعہ میں انڈین مجاہدین کی کارستانی نظر آنے لگی اور بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ اسی تیزی سے چل پڑا بلکہ اس میں مزید شدت آگئی اوریہ سلسلہ اب بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔
                اس ہفتہ دہشت گردی کے حوالہ سے دو اہم خبریں سامنے آئی ہیں۔ ایک کا تعلق آر ایس ایس چیف موہن بھاگوت سے ہے اور دوسرے کا ریاست بہار کے وزیر شاہد علی خان سے ۔ کارواں میگزین نے آر ایس ایس سے وابستہ دہشت گرد ی کے ملزم سوامی اسیمانند کا وہ انٹر ویو شائع کر کے کھلبلی مچادی ہے جس میں سوامی نے اعتراف کیا ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ کے بارے میں آر ایس ایس سربراہ اور دیگر رہنماؤں کو نہ صرف جانکاری تھی بلکہ سوامی کو ان کی سرپرستی بھی حاصل تھی اور انہوں نے اسے ملک کے ہندؤوں کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے صرف یہ احتیاط برتنے کی ہدایت کی تھی کہ اس میں سنگھ کا نام سامنے نہ آئے ۔ یہ انکشاف گھر کے بھیدی کا ہے اور یہ بہت بڑا وقعہ ہے جس کی نہ صرف اعلی سطحی جانچ ہونی چاہیے بلکہ موہن بھاگوت اور دیگر لیڈران کی گرفتاری بھی عمل میں آنی چاہیے۔ لیکن یقین مانئے کہ ایسا کچھ نہیں ہوگا اور نہ ہمیں اس وقت اس سے بحث کرنی ہے۔ اس وقت ہمارا موضو ع گفتگو دہشت گردوں سے حکومت بہار کے وزیر کابینہ شاہد علی خان کی وابستگی ہے۔ شاہد علی خان کا تعلق ایسے خانوادے سے ہے جس کے افراد آزادی کی لڑائی میں حصہ لے چکے ہیں ۔ خود موصوف بھی اپنی حد درجہ سیکولر اور صاف ستھری شبیہ کی وجہ سے حکومت میں مقبول ہیں اور ایک طرح سے وزیر اعلی اور ریاست کے مسلمانوں کے درمیان رابطہ کار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اہل ریاست کو ایک ٹیلی ویژن چینل کے توسط سے پتہ چلا کہ ان کا تعلق دہشت گردی سے ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ سرحد پر ملک کی حفاظت کے لیے مامور سشستر سیمابل (ایس ایس بی) نے ریاستی پولس کو مراسلہ لکھ کر بتایا تھا کہ موتیہاری اور سیتا مڑھی اضلاع کے منظورسائیں اور جمیل اختر نامی دونوجوانوں کی وابستگی آئی ایس آئی اور انڈین مجاہدین سے ہے اور ان کا تعلق وزیر شاہد علی خان سے بھی ہے۔ اس کی تفتیش کی گئی اور دونوں اضلاع کے ایس پی نے ریاستی پولیس کو ارسال کردہ اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مذکورہ دونوں افراد سے وزیر کا کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی ان دونوں کا تعلق دہشت گرد تنظیموں سے ہے۔ ٹیلی ویژن پر خبر نشر ہونے کے بعد مذکورہ دونوں نوجوان از خود تھانہ میں حاضر ہوئے اور پولیس کو بتایا کہ ان کا وزیر موصوف سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ تھانہ کے مطابق وہ دونوں اپنا نام سامنے آنے کی وجہ سے بے حد دہشت زدہ تھے۔ اس خبر کے نشر ہوتے ہی بی جے پی والوں کی بانچھیں کھل گئیں اور انہوں نے وزارت سے شاہد علی خان کی برطرفی اور اعلی سطحی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے وزیر اعلی نتیش کمار پر دہشت گردوں کو پناہ دینے الزام لگانا شروع کردیا۔ حسب عادت میڈیا نے بھی اپنی کم ظرفی کا ثبوت دیتے ہوئے اس خبر کو خوب اچھالا۔ لیکن وزیر اعلی نے ان کے مطالبہ کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے بی جے پی کے ذہنی سڑانڈ سے تعبیر کیا۔ خود شاہد علی خان نے میڈیا کی جانب سے پوچھے گئے سوالوں کے جواب میں کہا کہ ان پر یہ الزام مسلمان ہونے کی وجہ سے لگایا گیا ہے۔ سنگھ پریوار جب جب مصیبت میں گھرتا ہے اس سے نکلنے اور اپنی جانب سے رخ پھیرنے کے لیے مسلمانوں پر حملہ آور ہوجاتا ہے ۔ اسیمانند کے انکشاف کے بعد بی جے پی کی خاموشی اور اچانک ایک مسلم وزیر پر دہشت گرد ی کے الزام کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جاسکتا ہے۔
                مسلمان ایک عرصہ سے دہشت گردی کی مار جھیلتے آرہے ہیں ۔ ان علاقوں کو بطور خاص نشانہ بنایا جاتا ہے جہاں مجموعی طور پر وہ خوش حال ہیں۔ پہلے ایک خاص خطہ کو نشان زد کیا جاتا ہے اور خفیہ ایجنسیاں ان پر ٹوٹ پڑتی ہیں۔ پھر دوسرا علاقہ منتخب کیا جاتا ہے اور وہاں بھی یہ سلسلہ جاری کیا جا تا ہے۔ چنانچہ یہ نسخہ بہار میں بھی آزمایا گیا اور گذشتہ دو برسوں کے درمیان یہاں سے درجن بھر مسلم نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں آئی۔ زیر تعلیم ، تعلیم یافتہ اور برسر روزگار نوجوان بطور خاص نشانہ پر رہے۔ لیکن یہ پہلا موقع ہے جب اس کی آنچ حکومت تک پہنچ گئی اور اس کے ایک ذمہ دار وزیر پر دہشت گردوں سے تعلق رکھنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ ہر چند کہ ریاستی حکومت اور پولس نے اسے غلط قرار دے دیا ہے لیکن اس سے مسئلہ کی سنگینی کا اندازہ ہوتا ہے کہ جب حکومت کاوزیر الزام سے بچ نہیں سکتا تو عام مسلمانوں کی کیا بساط ہے۔ گذشتہ دوبرسوں کے درمیان اس حوالہ سے بہار کے مسلمانوں نے جو اذیتیں جھیلی ہیں اس کی داستان کے بڑی روح فرسا ہے۔ مختلف خفیہ ایجنسیاں بیک وقت ٹوٹ پڑیں اور جب جسے چاہا اٹھا کر لے گئیں ۔ دربھنگہ ضلع کو دہشت گردی کے مرکز کے طور پورے ملک میں مشہور کردیا گیا ۔ گرفتار شدگان میں سے ایک قتیل صدیقی نامی نوجوان کو تو زیر حراست قتل بھی کردیا گیا۔ خفیہ ایجنسیوں نے جو تانڈو کیا اس نے یہاں کے مسلمانوں کو ہلاکر رکھ دیا۔ ہر شخص اپنے بچوں کے تحفظ کے تئیں اندیشوں میں گرفتار ہوگیا۔ ایسا محسوس ہونے لگا کہ جیسے خفیہ ایجنسیوں کے درمیان زیادہ سے زیادہ گرفتاریوں کے لیے مقابلہ آرائی ہورہی ہو۔ وہ جب جسے چاہتیں اغوا کے انداز میں اٹھا کر لے جاتیں ۔ ہر طرف خوف ودہشت کا سماں تھا۔ کوئی اس موضوع پر بات کرنے کو تیار نہیں ہوتا تھا۔ عجیب کس مپرسی کا عالم تھا۔ لوگ سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب امید بھری نگاہوں سے سے دیکھ رہے تھے ، لیکن کوئی سامنے نہیں آیا۔ ان پر آشوب حالات میں فطری طور پر ان مسلم رہنماؤں سے ہمدردی کی توقع کی گئی جنہیں مسلمان سوجتن کر کے اسمبلی اور پارلیامنٹ بھیجتے ہیں لیکن بے سود ، علاقائی نمائندگی کرنے والے قومی سطح کے رہنماؤں سے ملاقاتیں کی گئیں لیکن لا حاصل۔ سوائے غلام غوث کے سبھوں نے خاموشی اختیار کرنے میں ہی عافیت محسوس کی۔ یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ وزیر موصوف سے جو آج خود الزام کی زد میں ہیں بڑی توقعات وابستہ کی گئیں لیکن مایوسی ہی ہاتھ لگی۔ یہاں تک کہ جب دربھنگہ میں رضا کار نتظیم مسلم بیداری کارواں نے عوامی احتجاج کے لیے ریلی نکالی تو بر سر اقتدار جماعت کے مسلم کارکنان نے خفیہ طور پر اسے بھی ناکام بنانے کی کوشش کی اور اس صورتحال کا خفیہ ایجنسیوں نے بھی بھر پور فائدہ اٹھایا اور اب حالات یہاں تک پہنچ گئے ہیں کہ خفیہ ایجنسیاں اور اور پولس نہیں بلکہ سرحدکی حفاظت کے لیے مامور ایس ایس بی کا حوصلہ بھی اتنا بلند ہوگیا ہے کہ اسے ایک موقر وزیر پر الزام لگانے میں بھی جھجک محسوس نہیں ہوئی۔ وزیر موصوف کی کردار کشی کی جو کوشش کی گئی ہم اس کی سخت مذمت کرتے ہیں ۔ ان کا یہ احساس بجا ہے کہ مسلمان ہونے کی وجہ سے ان پر الزام تراشی کی گئی لیکن عام مسلمان تو ہمیشہ سے اسی احساس کے تحت جی رہے ہیں۔ کیا اچھی بات ہوتی کہ یہ احساس انہیں اس وقت ہوتا جب ان کی قوم کے بچے اسی نسبت کی وجہ سے زد میں تھے ۔اگر ایسا ہوجاتا تو شاید آج یہ نوبت نہ آتی۔ اس موقع پر ہمیں ایک بار پھر اپنی کس مپرسی کا شدید احساس ہورہا ہے ، رہنماؤں اور عوام کے درمیان جو دوری پیدا ہوگئی ہے وہ ہمیں اس صورتحال سے آشنا کرارہی جس میں جرمن شاعر نے کہا تھا :
ُپہلے وہ کمیونسٹوں کے لیے آئے میں چپ رہا ، کیونکہ میں کمیونسٹ نہ تھا
پھر وہ سوشلسٹوں کے آئے ، میں چپ رہا کیونکہ میں سوشلسٹ نہ تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر وہ میرے لیے آئے ، تب بولنے والا کوئی نہ تھا
                اس سے پہلے کہ ہمارے دیگرسیاست داں یا قائدین اپنے اوپر عائد الزامات عائد ہونے کا انتظار کریںانہیں اپنی قوم کی رہنمائی اور ان کے مسائل سے نبرد آزما ہونے کے لیے آگے بڑھنا چاہیے ۔ کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا ہے جب مسلم قیادت اپنے فرائض منصبی کو سمجھے، ملت تو کب سے پیچھے چلنے کے لیے بیتاب ہے۔ وہ تو اب بھی اس پر اپنی جان نچھاور کرنے کے لیے تیار ہےے جو اس کے دکھ درد کو اپنا سمجھے اور پر آشوب حالات میں اس کی دست گیری کرے۔ وہ دن مسلمانوں کے لیے سعادت وخوشی کا پیغام لے کر آئے گا جب قائدین وعوام اپنی اپنی ذمہ داریوں سے آشنا ہوجائیں گے کہ اسی میں دونوں کی بھلائی ہے۔ 

بدھ، 22 جنوری، 2014

اب انڈین مجاہدین کے نشانہ پر اروند کیجریوال

اب انڈین مجاہدین کے نشانہ پر اروند کیجریوال
قتل جہاں کے واسطے تازہ پھر اک بہانہ کر

                آزادی وطن کی خاطر مسلمانوں کی لازوال قربانیوں کا صلہ انہیں اس صورت میں دیا گیا کہ آزادی کا سورج طلوع ہوتے ہی خود ان کی قربانی جائز قرار دے دی گئی ۔ ملک میں رونما ہونے والے ہزاروں فسادات میں جس طرح ان کی نسل کشی کی گئی اور ان کی جان و مال اور عزت و آبرو سے کھلواڑ کیا گیا آزادی کے متوالوں نے اس کا تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔ ملک کی حکومتوں ، سیاسی جماعتوں ، بیورو کریسی ، ذرائع ابلاغ سب نے منظم طور پر اس پالیسی پر عمل کیا کہ مسلمان اس ملک میں سر اٹھاکر جینے کے لائق نہ بن پائیں اور ان کے خلاف نفرت کی ایسی فضا ہموار کی جائے کہ وہ اچھوت بن کر رہ جائیں۔ اس پالیسی پر عمل کرنے کے لئے ہر وہ حربہ اختیار کیا گیا جس سے ایک جانب مسلمان اپنی جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کے تئیں اندیشوں میں مبتلا رہیں تو دوسری جانب انہیں ملک دشمن بلکہ انسانیت دشمن کے آئینہ میں دیکھا جانے لگے ۔ لہٰذا ابتدا سے ہی ہر قسم کی ملک مخالف سرگرمی کے لئے مسلمانوں کو ہی مورد الزام ٹھہرایا گیا اور ان کی وفاداریاں پاکستان سے منسوب کی جانے لگیں ۔ حالانکہ اس الزام سے بچنے کے لئے وہ ملک کے تئیں اپنی وفاداری کے اضافی ثبوت بھی پیش کرتے رہے لیکن صورت حال میں تبدیلی نہیں آئی بلکہ ان کی شبیہ بگاڑنے کی کوششیں تیز تر ہوگئیں ۔ ملک میں رونما ہونے والے ہر دہشت گردانہ واقعہ کے پیچھے مسلمان نظر آنے لگا اور اس کا تعلق پاکستان کی دہشت گرد تنظیموں سے جوڑنے کا سلسلہ چل پڑا۔ ایک عرصہ تک دہشت گردانہ واقعات انجام دینے کے لئے” لشکر توئبہ“اور ہوجی جیسی تنظیموں کو ذمہ دار قرار دینے کے بعد اب ہماری حکومت اور اس کی خفیہ ایجنسیوں نے انڈین مجاہدین کے نام سے اس کا ہندوستانی ایڈیشن تیار کر لیا ہے ۔ چنانچہ اب ایسے تمام واقعات کی انجام دہی کے لئے اسی کومورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔اس فرضی تنظیم سے وابستگی کے نام پر اب نہ جانے کتنے بے قصور نوجوانوں کو اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھونا پڑ چکا ہے اور ہزاروں قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں۔ مسلمانوں اور دیگر انصاف پسند افراد اور تنظیموں کے مسلسل مطالبے کے باوجود حکومت اور اس کی ایجنسیاں اس نام نہاد تنظیم کی اصلیت ثابت نہ کر سکیں لیکن اس کے نام پر مسلمانوں پر عتاب کا سلسلہ پورے شد و مد کے ساتھ جاری ہے۔ بیشتر دہشت گردانہ حملوں کے پیچھے نام نہاد قوم پرستوں کا ہاتھ ہونے کے پختہ ثبوت کے باوجود پولیس اور تفتیشی ایجنسیوں نے انہیں مکمل چھوٹ دے رکھی ہے اور ان کی تمام تر توجہات کا مرکز مسلم نوجوان ہیں ۔ چونکہ حکومت نے خفیہ ایجنسیوں کو مکمل آزادی دے رکھی ہے اس لے وہ بے خوف ہوکر مسلمانوں کو اپنی چیرہ دستیوں کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔ ایک جانب ملک کے وزیر داخلہ مسلمانوں کو گرفتار کرنے میں محتاط رویہ اپنانے کی نصیحت فرمارہے ہیں تو دوسری جانب خفیہ ایجنسیاں نئے نئے شگوفے چھوڑ کر مسلمانوں کی گرفتاریوں کی راہ آسان بنا رہی ہیں ۔
                آج کل خفیہ ایجنسی انٹلی جنس بیورو انڈین مجاہدین کے حوالے سے نئے نئے انکشاف کرنے کا ریکارڈ قائم کر رہی ہے ۔یہ وہی آئی بی ہے جس کی اطلاع کے نتیجہ میں گجرات ، بٹلہ ہاؤس اور ملک کے مختلف حصوں میں فرضی انکاؤنٹروں کی کارروائیاں عمل میں آچکی ہیں لیکن اس کے باوجود یہ سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ چار ریاستوں کے حالیہ اسمبلی انتخاب سے قبل آئی بی کے ذریعہ مسلسل یہ الرٹ جاری کیا جاتا رہا کہ مودی کی جان کو انڈین مجاہدین سے خطرہ ہے ۔ آئی بی کا کمال یہ ہے کہ وہ معمولی دھماکوں کے ذریعہ اپنی بات کی تصدیق بھی کرالیتی ہے جس کا واضح ثبوت پٹنہ ریلی میں ہونے والا دھماکہ ہے جس سے مودی نے خطاب کیا تھا۔ اس دھماکہ کی بنیاد پر بہار سے لے کر جھارکھنڈ اور چھتیس گڑھ تک مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا لیکن لکھی سرائے سے گرفتار ہندؤں کو جن کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے پیسے پہنچانے کے پختہ ثبوت ملے ،دہشت گردی کا ملزم نہیں بنایا گیا ۔ راہل گاندھی نے اسی آئی بی کے حوالہ سے یہ شوشہ چھوڑا کہ پاکستانی دہشت گرد تنظیمیں مظفر نگر کے فساد زدہ نوجوانوں سے رابطہ میں ہیں اور ہریانہ سے دو ائمہ مساجد کو گرفتار کرکے اس کی توثیق بھی کر دی گئی ۔ اب آئی بی نے ایک نیا شوشہ چھوڑا ہے ۔ اس کے مطابق انڈین مجاہدین دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال کو اغوا کر سکتا ہے ۔ اس کا دعویٰ ہے کہ آئی ایم اپنے سرغنہ یٰسین بھٹکل کو چھڑانے کے لئے اغوا کی سازش کر رہا ہے ۔ گویا آئی بی نے یہ فیصلہ کر رکھا ہے کہ انڈین مجاہدین کے عفریت کو ہر حال میں زندہ رکھنا ہے۔ کیجریوال نے آئی بی کے اس الرٹ کے بعد سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس یا تو بےوقوف ہے یا پھر سیاست کر رہی ہے ۔انہوں نے ٹویٹ کیا کہ پولیس نے انہیں اس کی اطلاع دیتے ہوئے تاکید کی کہ وہ میڈیا کو اس کے بارے میں نہ بتائیں جب کہ خود ہی سب کچھ بتا دیا ۔ کوئی بھی حملہ کرے گا تو بھٹکل کا ہی نام آئے گا ۔ کیجریوال نے یہ بھی کہا ہے کہ انہیں کسی سے ڈر نہیں ہے ۔ کیجریوال کا رد عمل کچھ بھی ہو اور انہیں اپنی جان کا خوف ہو یا نہ ہو آئی بی اور پولیس کی سابقہ کارروائیوں کو دیکھتے ہوئے ہمیں ضرور یہ خوف ہے کہ اب کیجریوال پر حملہ یقینی ہے اور اس کی پاداش میں پھر نہ جانے کتنے مسلم نوجوانوں کو پابند سلاسل کیا جائے گا۔
                ایک طرف حکومت مسلمانوں سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ بہت سے معاملات میں مسلم نوجوانوں کو غلط ڈھنگ سے پھنسایا گیا ہے تو دوسری طرف اس نے خفیہ اور تفتیشی ایجنسیوں کو شب خون مارنے کی مکمل چھوٹ دے رکھی ہے ۔ یہ ایجنسیاں ایسے ایسے مضحکہ خیز دعوے اور حرکتیں کرتی ہیں کہ معمولی عقل و فہم رکھنے والا انسان بھی اسے باسانی سمجھ سکتا ہے لیکن اس سے نہ حکومت کی صحت پر اثر پڑتا ہے نہ ہی میڈیا کی جانب سے کوئی سوال کیا جاتا ہے ۔ حالانکہ جب مسلمانوں کو بدنام کرنے کی بات ہو تو یہی میڈیا ایسی ایسی گل افشانیاں کرتاہے کہ خدا کی پناہ اورمسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں کے ساتھ ہی اپنے ٹرائل کے ذریعہ فوراً ملزم کو مجرم ثابت کر دیتا ہے۔ چند ہفتہ قبل تفتیشی ایجنسی این آئی اے نے یسین بھٹکل کے حوالہ سے یہ مضحکہ خیز انکشاف کیا کہ وہ گجرات کے سورت شہر پر نیوکلیر بموں سے حملہ کر نے والا تھا لیکن اس سے قبل ہی اس کی گرفتاری عمل میں آگئی ۔اس انکشاف کے بعد نہ حکومت نے اس کا کوئی نوٹس لیا اور نہ میڈیا نے ہی کوئی سوال پوچھا ۔ایسا لگا جیسے نیوکلیر بم کی بجائے غلیل کی بات کی گئی ہو ۔ اس انکشاف کا دوسرا مضحکہ خیز لیکن بے حد خطرناک پہلو یہ ہے کہ بھٹکل کے اس منصوبہ پر جب پاکستان میں موجود اس کے سرغنہ نے کہا کہ ایسے حملہ میں تو مسلمان بھی مارے جائیں گے تو ا س نے کہا کہ وہ مساجد میں اشتہار چسپاں کرکے ان سے کہے گا کہ وہ سب کے سب شہر چھوڑ کر چلے جائیں ۔ گویا بین السطور یہ پیغام دیا جارہا ہے کہ تمام مسلمان بھٹکلی منصوبہ کی نہ صرف تائید کرنے والے ہیں بلکہ وہ اس کے معین و مددگار بھی ہیں اور مساجد و مدارس دہشت گردی کے اڈے ہیں ۔ اسی تناظرمیں کیجریوال کے اغوا یا ان پر حملہ کی بات کو بھی دیکھنا چاہئے حالانکہ کیجریوال کو واقعی خطرہ ہندو دہشت گردوں سے ہے جو ان کے کارکنان اور دفاتر پر مسلسل حملے کر رہے ہیں ۔
                مسلمان ایک عرصہ سے دہشت گردانہ حملوں کی مار جھیل رہے ہیں ۔ انہیں کی عبادت گاہوں پر حملہ ہوتا ہے ، وہی مارے جاتے ہیں اور انہیں ہی مورد الزام بھی ٹھہرایا جاتا ہے ۔ وہ انصاف کی دہائی دیتے ہیں لیکن انہیں جھوٹے دلاسوں کے سوا کچھ نہیں ملتا۔ درحقیقت ہمارا پورا ملکی نظام فسطائیت کے نرغہ میں ہے ۔ فرقہ پرستی کے عفریت نے مقننہ سے لے کر انتظامیہ تک سب کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انتظامیہ کے اعلیٰ عہدہ پر فائز ایک شخص جو کل تک دھماکوں میں آر ایس ایس کارکنان کے ملوث پائے جانے کے پختہ ثبوت ہونے کا اعلان کرتا رہا آج خود آر ایس ایس کی گود میں جاکر بیٹھ گیا ہے اور اس کے پالیسی سازوں میں شامل ہوگیا ہے ۔ یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں ہے کہ اعلیٰ عہدوں پر فائز وہ لوگ جو سبک دوشی کے بعد فرقہ پرستوں کی پناہ گاہ میں داخل ہوجاتے ہیں برسر کار رہتے ہوئے انہوں نے کیا کیا گل کھلائے ہوں گے ۔ یہ صورت حال نہ صرف مسلمان بلکہ ملک کی سلامتی کے لئے بے حدتشویش ناک ہے اور اگر فسطائیت کے اس جن کو بوتل میں بند نہیں کیا گیا تو پورا ملک تباہ ہوجائے گا۔ کیا ملک کو فرقہ پرستی سے نجات دلانے کے جھوٹے دعوے داروں اور سیکولرزم کے نام نہاد علمبرداروں کے پاس اس کا کوئی علاج ہے ؟

جمعہ، 17 جنوری، 2014

شنڈے کے مکتوب کی حیثیت آخری وصیت کے سوا کچھ بھی نہیں

شنڈے کے مکتوب کی حیثیت آخری وصیت کے سوا کچھ بھی نہیں
                                                                                                                                                                                               
                جب سے پارلیامانی انتخاب کی آہٹ سنائی دینے لگی ہے مسلمانوں سے سیاسی پارٹیوں کی زبانی ہمدردیاں بڑھ گئی ہیں اور انہیں ان کی خوش حالی اور ترقی کی فکر ستانے لگی ہے۔ ہر پارٹی یہ چاہتی ہے کہ اسے مسلمانوں کا ووٹ حاصل ہو، اس لیے سبھی پارٹیاں اپنے اپنے انداز میں انہیں لبھانے کی کوشش کرتی نظر آرہی ہیں اور ہر پارٹی انہیں یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ صرف وہی ان کی حقیقی بہی خواہ ہے اور وہی ان کے تمام مسائل کو حل کرسکتی ہے ۔ ملک میں مسلمانوں کے بے شمار ہی مسائل میں سر فہرست ان کے تحفظ کا مسئلہ ہے، انہیں دن رات اسی کی فکر ستاتی رہتی ہے جس کی وجہ سے انہیں دیگر مسائل پر توجہ دینے کی فرصت نہیں ملتی۔ اس لیے سیاسی پارٹیاں مختلف حربوں کا استعمال کرکے پہلے ان میں عدم تحفظ کے احساس بڑھاوادیتی ہیں اور پھر ان کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے ہر پارٹی دعوی کرتی ہے کہ وہی انہیں تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ جو جماعت انہیں سب سے زیادہ عدم تحفظ کا شکار بناتی ہے وہی سب سے زیادہ ان کے تحفظ کا دعوی بھی کرتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال کانگریس پارٹی ہے جس نے فسادات کے ذریعہ ہمیشہ مسلمانوں کی کمر توڑ ی اور انہیں کبھی اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کے قابل نہیں بننے دیا پھر یہی طریقہ دوسری پارٹیوں نے بھی اپنایا۔ فسادات کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے نام پر بھی مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کرنے کا رواج چل پڑا اور آج تو اسے سکہ رائج الوقت کی حیثیت حاصل ہوچکی ہے۔ جہاں کہیں کو ئی بم دھماکہ ہوا بغیر کسی ثبوت کے مسلم نوجوانوں کی گرفتاریا شروع ہوجاتی ہیں اور پھر اس کو سچ کرنے کے لیے ثبوت تراشے جاتے ہیں جن میں بیشتر عدلیہ میں جاکر فرضی ثابت ہوجاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آئے دن دہشت گردی کے نام پر گرفتار مسلم نوجوان اپنی عمر کا بیش قیمت حصہ ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹ کر عدلیہ سے بے گناہ ثابت ہوکر رہا ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے باوجود آج بھی ہزاروں بے قصور نوجوان دہشت گردی کے الزام میں قید وبند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں اور کوئی ان کا پرسان حل نہیں ہے۔ ملی تنظیموں اور ملک کے دیگر سیکولر اور انصاف پسند طبقہ کی جانب سے نہ جانے کتنی بار حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں پر قد غن لگائی جائے اور اصل مجرموں تک پہنچا جائے لیکن انہیں جھوٹے وعدوں کے سوا کچھ نہ ملا اور اب بھی بے قصوروں کی دھر پکڑ کا سلسلہ نہ صرف جاری ہے بلکہ اس میں مزید شدت آگئی ہے۔ یوپی اے کی دس سالہ حکومت میں جس طرح دہشت گردی کے نام پر بے قصور مسلم نوجوانوں کی زندگیاں تباہ کی گئی ہیں اس سے مسلمان یو پی اے اور اس کی سربراہ کانگریس سے بیزار ہوگئے ہیں جس کی ایک جھلک حالیہ اسمبلی انتخابات میں دیکھنے کو ملی ہے۔ چنانچہ کانگریس کو ایک بار پھر مسلمانوں کی فکر ستانے لگی ہے اور اس نے ان کے ساتھ اظہار ہمدردی کرنا شروع کردیا ہے۔
                چنانچہ مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے نے ایک پریس کانفرنس میں میڈیا کو بتایا کہ انہوں نے تمام ریاستوں کے وزرائے اعلی کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اقلیتی فرقہ کے نوجوانوں کو گرفتار کرنے میں احتیاط سے کام لیں۔ حالانکہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اس طرح کے خوش کن اعلانات وہ پہلے بھی کرتے رہے ہیں۔ گذشتہ سال مئی میں ملی تنظیموں اور سیکولر افراد کے دباؤ کے نتیجہ میں یہ اعلان کیا گیا تھا کہ دہشت گردی سے متعلق مقدمات کے لیے نیشنل سیکوریٹی ایکٹ کے تحت ۳۹؍ خصوصی عدالتیں قائم کی جائیں گی۔ اس کے بعد ستمبر میں وزیر داخلہ نے تمام ریاستوں کے وزرائے اعلی کو ایک مکتوب بھیجا جس میں کہا گیا کہ تمام ریاستیں ہائی کورٹ کے مشورے سے ایسے مقدمات کے لیے خصوصی عدالتیں تشکیل دیں اور یہ یقینی بنائیں کہ کسی بے قصور شخص کو ہراساں نہ کیا جائے اور اگر کسی معاملہ میں اقلیتی فرقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کی گرفتاری غلط ثابت ہوتو قصور وار پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی جائے، گرفتار کئے گئے بے گناہ لوگوں کو فورا رہا کیا جائے اور انہیں معقول معاوضہ دینے کے ساتھ ان کی باز آباد کاری بھی کی جائے۔ مذکورہ خط میں وزیر داخلہ نے واضح طور پر کہا تھا کہ ایسے بہت سے معاملات سامنے آئے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ پولس نے مسلم فرقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو غلط طریقہ سے گرفتار کیا ہے جس کی وجہ سے اقلیتی نوجوانوں میں یہ احساس پیدا ہونے لگا ہے کہ انہیں ان کے بنیادی حقوق سے محروم کرنے کے جان بوجھ کر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اب تک کتنی خصوصی عدالتیں قائم کی گئیں اور ان سے بے قصور نوجوانوں کو کیا فائدہ حاصل ہوا اور نہ ہی یہ پتہ ہے کہ وزیر اعلی کے مکتوب سے ریاستی حکومتوں کی صحت پر کیا اثر پڑا۔ ہمیں صرف یہ معلوم ہے کہ حسب سابق گرفتاریوں کا سلسلہ نہ صرف جاری ہے بلکہ اس میں مزید تیزی آگئی ہے اور اصل مجرموں کو چھوڑنے اور بے قصوروں کی دھر پکڑ کے لیے پولس افسران کی پشت پناہی اور حوصلہ افزائی ہورہی ہے ۔ ایسے میں وزیر داخلہ کا حالیہ بیان فریب کے سوا کچھ نہیں ہے۔
                حقیقت تو یہ ہے کہ اس سلسلہ میں مرکزی حکومت کی نیت ہی صاف نہیں ہے۔ وہ نہیں چاہتی کہ مسلمان اس ملک میں آبرو مندانہ زندگی جینے کا حوصلہ پیدا کریں ورنہ آج مسلمانوں کی حالت اسی کی تشکیل کردہ کمیٹی کی رپورٹ سے مطابق دلتوں سے بدتر نہ ہوتی۔ اب یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ ملک میں دہشت گردی کے واقعات کون انجام دے رہا ہے اور یہ بھی کوئی راز نہیں ہے کہ پولیس افسران نہ صرف بغیر کسی ثبوت کے مسلمانوں کو گرفتار کرتے ہیں بلکہ بہت سے معاملات میں فرضی واقعات میں ان کی گرفتاری عمل میں لائی جاتی ہے۔ ایسے کئی معاملات سامنے آئے ہیں جن میں عدالتوں نے نہ صرف گرفتار شدگان کو رہا کیا ہے بلکہ یہ بھی بتایا ہے کہ جس واقعہ کی بنیاد پر بے قصوروں کو گرفتار کیا گیا وہ واقعہ سرے سے ہوا ہی نہیں اور اس بنیاد پر پولس والوں کو قصور وار ٹھہراتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا حکم بھی جاری کیا۔ دہلی کی ایک عدالت نے ایسے ہی ایک فرضی مقدمہ میں بے قصور مسلم نوجوانوں کو رہا کرتے ہوئے اپنے فیصلہ میں لکھا تھا کہ ’’انکاؤنٹر کی کہانی بڑی چالاکی کے ساتھ دلی پولیس کے دلی اسپیشل اسٹاف کے دفتر میں اس کے خاص مصنف سب انسپکٹر رویندر تیاگی اور اس کے معاونین کے ذریعہ لکھی گئی ہے۔ ‘‘اسی طرح بھگوا دہشت گردی کے کھل کر سامنے آجانے کے باوجود اس کے خلاف کارروائی میں تیزی نہ لانا بھی مرکزی حکومت کی نیت کے فتور کا ثبوت ہے۔ وزیر داخلہ سے یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ ریاستوں کو ان کے ذریعہ بھیجے گئے مکتوب کی قانونی حیثیت کیا ہے کیونکہ لا اینڈ آرڈ ر ریاستی معاملہ ہے اور مخصوص حالات کو چھوڑ کر مرکز اس میں مداخلت کا مجاز نہیں ہے۔ شاید اس کے ذریعہ وہ یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ مرکزی حکومت نے تو بے قصوروں کی گرفتاریوں پر روک لگانے کی کوشش کی لیکن ریاستی حکومتوں نے تعان نہیں کیا ۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ جن ریاستوں میں کانگریس کی حکومت ہے وہاں اس پر کس قدر عمل ہوا۔ مہاراشٹر اور دلی میں لگا تار کانگریس اقتدار میں رہی اور ان دو ریاستوں کی پولس نے جس طرح دہشت گردی کے نام پر مسلم نوجوانوں کی زندگی تباہ کی اس میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ مہاراشٹر اے ٹی ایس اور دلی پولس اسپیشل سیل نے دیگر ریاستوں میں جاکر جو ہنگامہ خیزی کی ہے کیا اس کے لیے کانگریس ذمہ دار نہیں ہے ۔ کیا وزریر داخلہ کو اس بات کا جواب نہیں دینا چاہیے کہ مہاراشٹر میں مسلمان مجموعی آبادی کا ۱۵؍ فیصد ہیں تو جیلوں میں ۳۷؍ فیصد کیوں ہے۔ گذشتہ دس برسوں کے دوران مہاراشٹر اور دلی میں کانگریس کی حکومت رہی ہے اور سب سے زیادہ گرفتاریاں بھی انہیں دونوں ریاستوں میں ہوئی ہیں تو اس کیا جواب ہے۔ حد تو یہ ہے کہ اس مدت میں خود مسٹر شنڈے بھی مہاراشٹر کے وزیر اعلی رہ چکے ہیں۔ کیا وزیر داخلہ کے پاس اس سوال کا کوئی جواب ہے کہ عشرت جہاں اور صادق جمال مہتر انکاؤنٹر میں سازش رچنے والے آئی بی افسران راجیندر کمار، سدھیر کمار، یش وردھن آزاد او رگرو راج وغیرہ کو کیوں بچایا گیا ۔ کیا ہمیں اس سوال کا جواب نہیں ملنا چاہیے کہ مالے گاں بم دھماکہ میں ہندو ملزمین کے خلاف چارج شیٹ داخل ہونے کے باوجود اس الزام میں پہلے سے گرفتار بے قصور مسلم نوجوان ابھی تک عدالتوں کے چکر کیوں کاٹ رہے ہیں۔ کیا ہمین یہ جاننے کا حق نہیں ہے کہ پٹنہ دھماکہ کے بعد مسلم نوجوانوںکو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تو کروڑوں روپے کے ٹرانزکشن کے سرغنہ گوپا کمار گویل اور اس کے ساتھی وکاس کمار ، پون کمار اور گنیش ساہو اور بنگلور سے گرفتار عائشہ اور زبیر کو جو اصل میں دنیش اور سنیتا ہیں ؛دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے پیسہ پہنچانے کے پختہ ثبوت کے باوجود دہشت گردی کا ملزم کیوں نہیں بنایا گیا۔ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب پائے بغیر مسلمان کانگریس سے مطمئن نہیں ہوسکتے۔
                کانگریس کی بد نیتی کا بد ترین ثبوت راہل گاندھی کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے کہا تھاکہ پاکستانی دہشت گرد تنظیمیں فساد زدہ نوجوانوں کے رابطہ میں ہیں جس پر کافی واویلا مچا تھا اور خفیہ ایجنسیوں نے ہریانہ سے دو ائمہ کو گرفتار کر ک راہل کے اس بیان کی تصدیق کردی۔ اس کی بد نیتی کا ثبوت یہ بھی ہے کہ کانگریس کے جنرل سکریٹری شکیل احمد نے انڈین مجاہدین کو گجرات فساد کے رد عمل میں پیدا ہونے والی تنظیم قرار دے کر اس نام نہاد فرضی تنظیم کے اصلی ہونے کی تصدیق کردی۔ حالانکہ آج تک کوئی ایجنسی اس کی حقیقت ثابت نہ کرسکی۔ مرکزی وزیر داخلہ کے حالیہ مکتوب کا سب سے مضحکہ خیز بلکہ بد نیتی پر محمول وہ حصہ ہے جس میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ اقلیتوں سے ان کی مراد کسی خاص کمیونٹی سے نہیں ہے۔ یہ وضاحت ان کے فرقہ پرست عناصر سے خوفزدہ ہونے کی دلیل ہے کہ ان پر مسلم نوازی کا الزام نہ لگے۔ سوال یہ ہے کہ اگر بے قصور گرفتار شدگان میں ۹۰؍ فیصد کا تعلق مسلمانوں سے ہے تو ان کا نام لینے میں شرم کیوں محسوس ہوئی۔ کیا وہ باغبان بھی خوش رہے ، راضی رہے صیاد بھی‘ کے نظریہ پر عمل پیرا نہیں ہیںَ یہ وہی وزیر داخلہ ہیں جنہوں نے بھگوا دہشت گردی کے پختہ ثبوت ہونے کی بات کہنے کے بعد فرقہ پرست عناصر کے دباؤ میںآکر معافی مانگ لی تھی۔ کانگریس اگر مخلص ہوتی تو اپنے دس سالہ دور اقتدار میں اس صورتحال پر قابو پاسکتی تھی لیکن اس نے اس کی بجائے نام نہاد دہشت گردی کے خلاف نت نئے سیاہ قوانین بناکر بے قصور مسلمانوں کی گرفتاری کے لیے پولیس کو چھوٹ دی او اس کی حوصلہ افزائی کی۔ ایک سوال یہ بھی ہے کہ مرکزی حکومت مسلمانوں کے لئے جن نیک خواہشات کا اظہار کر رہی ہے اور جو وعدے کر رہی ہے ان پر عمل در آمد کب ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان وعدوں کی تکمیل کے لیے اسے ایک بار پھر اقتدار سونپنا ہو گا ۔ لیکن پھر بھی یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ اگر اقتدار مل بھی جائے تو اس کی کیا ضمانت ہے کہ وعدوں کی تکمیل بھی ہوگی۔ لہٰذا وزیر داخلہ کے مذکورہ مکتوب کی حیثیت جانے والے کی آخری وصیت سے زیادہ اہمیت نہیں ہے۔ اس لیے کانگریس مسلمانوں کو سبز باغ نہ دکھائے اور اگر واقعی وہ مخلص ہے تو الیکشن میں جانے سے قبل کم از کم انسداد فرقہ وارانہ تشدد بل منظور کر کے اس کا ثبوت پیش کرے۔


منگل، 14 جنوری، 2014

آتش بازی کا عالمی ریکارڈ

آتش بازی کا عالمی ریکارڈ
مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے



۲۰۱۴ءکا سال مسلم ممالک کے لئے اس لحاظ سے بے حد ناسازگار رہا کہ اس میں ان ممالک بطور خاص مشرق وسطیٰ میں حالات بیحد ہنگامہ خیز رہے ۔ فلسطین ، مصر ، شام، پاکستان، بنگلہ دیش،میانمار ہر جگہ انہیں اپنی نادانیوں کی سزا اور غیروں کی سازشوں کی مار جھیلنی پڑی اور یہ سلسلہ بدستور جاری ہے ۔ ۴۱۰۲ءبھی ان کے لئے کسی خوش خبری کی نوید لے کر نہیں آیا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ بعض استثنا کے ساتھ ان ممالک کے سربراہوں کو شاید اس بات کا احساس نہیں ہے ، دولت کی ریل پیل نے انہیں اندھا کر دیا ہے اور وہ نوشتہدیوار پڑھنے سے قاصر ہیں۔ قارئین تک یہ اطلاع پہنچ چکی ہے کہ مسلم ملک دبئی نے ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے اوریہ ریکارڈ ہے آتش بازی کا ۔ نئے سال کے آغاز کے لمحے کے ساتھ ہی دبئی نے ۵ لاکھ سے زائد پٹاخوں کی مدد سے زبردست اور حیران کن آتش بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے ۔ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈس میں یہ اعتراف کیا گیاہے کہ آتش بازی کی تاریخ میں ایسا مظاہرہ دنیا میں کہیں نہیں ہوا۔ اس کی منصوبہ بندی گذشتہ دس ماہ سے کی جارہی تھی ۔ آتش بازی کا سب سے زیادہ متاثر کن مظاہر ہ ساحل پر ایک مصنوعی طلوع آفتاب کا منظر پیدا کرتے ہوئے کیا گیا ۔ فضاں میں جاکر روشنی کے ساتھ پھٹ پڑنے والے پٹاخوں کی بلندی ایک کیلو میٹر سے زائد تھی ۔ اس سے قبل یہ عالمی ریکارڈ قائم کرنے کا شرف بھی امریکہ یا یورپ کو حاصل نہیں ہوا بلکہ ایک اور مسلم ملک کویت نے ۲۱۰۲ءمیں اپنی سالگرہ تقریب میں یہ کارنامہ انجام دیا تھا۔ واضح رہے کہ اس کا ڈیزائن امریکی کمپنی فائر ورکس بائی گروسی نے تیار کیا تھا ع حیراں ہوں دل کو رو ں کہ پیٹوں جگر کو میں
                اس وقت عالم اسلام جس صورت حال سے دوچار ہے اور دنیا بھر میں مسلمانوں کو جن شدائد و مصائب کا سامنا ہے ایسے میں کیا کسی مسلم ملک کو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اللہ کی عطا کردہ دولت کو جھوٹی شان کا مظاہرہ کرنے میں لٹائے ۔ یہ ذہنی افلاس کی انتہا ہے کہ جب دنیا ستاروں پر کمندیں ڈال چکی ہے اور تسخیر کائنات کی منصوبہ بندی کر رہی ہے مسلم ممالک آتش بازی کے ریکارڈ قائم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں اور پھل جھڑیاں چھوڑ رہے ہیں۔ جن کے اسلاف نے دنیا کو تہذیب و تمدن سکھایا ، علوم و فنون سے مالا مال کیا ، جینے کا ہنر سکھایا ، جہاں بانی کاسلیقہ بتایا ، اپنے علمی تفوق سے دنیا پر اپنی عظمت کا سکہ بٹھایا ، آج ان کی حالت یہ ہوگئی ہے کہ انہیں اپنے مقام و مرتبہ کا بھی احساس نہیں رہا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دولت کی ریل پیل اور وسائل کی کثرت کے باوجود عالمی منظر نامہ پر ان کے وجود کی کوئی حیثیت نہیں رہ گئی ہے اور وہ بہت سی بنیادی ضروری اشیاءکے ساتھ ساتھ سامان عشرت تک کے لئے مغرب کے محتاج بن گئے ہیں۔ ان کا سرمایہ عیش و نشاط اور نمود و نمائش میں صرف ہورہا ہے ۔ جن کے آباءو اجداد نے ایجادات و اختراعات میں ریکارڈ قائم کیا وہ تفریح و عیش پرستی کا ریکارڈ قائم کر رہے ہیں جنہیں اقوام عالم کی امامت کرنی تھی وہ آخری صف کے مقتدی بنے بیٹھے ہیں اور حد تو یہ ہے کہ ان کے اندر سے احساس زیاں بھی مفقود ہوگیا ہے ۔ ان کے اندر یہ احساس بالکل باقی نہیں رہا کہ ان کی حیثیت کیا تھی اور وہ آج کس مقام پر پہنچ گئے ہیں ۔ انہیں اس بات کا شعور نہیں کہ عظمت رفتہ کیسے حاصل کی جائے اور اپنی دولت و صلاحیت سے کیسے دنیا کو فیض پہنچایا جائے ۔ عالم اسلام کے پاس مادی وسائل کی کمی نہیں ہے ، دنیا کا ایک چوتھائی بری حصہ اس کے قبضہ میں ہے ، زرعی اور معدنیاتی لحاظ سے بھی مالا مال ہے ۔ دولت ، صلاحیت ، اہلیت ، افرادی قوت سب کچھ موجود ہے لیکن مقام عبرت ہے کہ ان سب کے باوجود وہ دنیا میں سر اٹھاکر جینے کے لائق نہیں ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اللہ نے اسے جس دولت و حکومت سے نواز ا ہے اسے امانت سمجھتے ہوئے اس کا استعمال علوم و فنون کی ترقی کے ساتھ ساتھ مظلوموں کی حمایت ، انسانیت کی فلاح اور خدمت خلق کے میدانوں میں کیا جاتا جس سے نہ صرف اقوام عالم میں اس کی ساکھ بہتر ہوتی بلکہ یہ تبلیغ دین کا بھی بہترین وسیلہ ہوتا لیکن ہویہ رہا ہے کہ اس کا استعمال اپنے ہی بھائیوں کی گردنیں اڑانے یا جھوٹی شان و شوکت کا مظاہرہ کرنے کے لئے کیا جارہا ہے ۔ مسلمانوں نے اپنے شاندار ماضی سے کوئی سبق نہیں لیا ورنہ اس وقت اقوام عالم کی قیادت و سیادت ان کے ہاتھوں میں ہوتی ۔ علوم و فنون سے پہلو تہی کرکے دنیا میں کوئی قوم سر اٹھاکر نہیں جی سکتی ۔ آج سائنس اور ٹکنالوجی سے منہ موڑ کر آبرومندانہ زندگی جینے کا تصور بھی ممکن نہیں ہے ۔ مسلمانوں کو اس وقت تک عزت و وقار حاصل رہا جب تک انہوں نے علوم و فنون سے اپنا رشتہ استوار رکھا اور دنیا کو اپنی خدمات سے فیض پہنچاتے رہے لیکن جب اس سے آنکھیں چرالیں تو وسائل کی کثرت کے باوجود محکوم بن گئے اور جن قوموں نے اسے اپنایا انہیں خود بخود دنیا کی قیادت حاصل ہوگئی۔کچھ عرصہ قبل یورپ کے ایک معروف مورخ چارلس گیلسپی نے ان سائنسدانوں کی فہرست مرتب کی تھی جنہوں نے ساتویں صدی سے پندرہویں صدی تک سائنس کو فروغ دیا اور اس طرح موجودہ سائنسی انقلاب کی بنیاد رکھی ۔ اس فہرست میں ۲۳۱ سائنسدانوں کے نام شامل ہیں جن میں ۵۰۱ کا تعلق مسلم دنیا سے ہے۔ گویا عہد وسطی میں دنیا کے نوے فیصد سائنسداں عالم اسلام سے تعلق رکھتے تھے ۔ لیکن جب مسلمانوں نے اس سے بے اعتنائی برتی تو وہ کہاں پہنچ گئے اس کا اندازہ اس سروے سے بخوبی ہوجاتا ہے ۔ ۱۸۹۱ءکے ایک سروے کے مطابق چھوٹے سے ملک ناروے کے سائنسدانوں ، انجینئروں اور ڈاکٹروں کی کل تعداد پوری اسلامی دنیا کے سائنسدانوں ، انجینئروں اور ڈاکٹروں سے کچھ زیادہ ہی تھی ۔ یہ تعداد جاپان کے کل سائنسدانوں کے نصف سے بھی کم تھی ۔
                جو قوم عیش و عشرت اور جھوٹی شان و شوکت کے مظاہر ہ پر اربوں کھربوں خرچ کر ڈالے اسے زوال سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ آج صورت حال یہ ہے کہ مسلمان پوری دنیا میں سنگین مسائل سے دوچار ہیں ۔ اپنی شامت اعمال کے نتیجہ میں جہالت ، مفلسی ، پسماندگی ، انتشار اور محکومی ان کا مقدر بن گئی ہے ۔ نااتفاقی کا یہ عالم ہے کہ آپس میں خونریز جنگیں لڑی جاتی ہیں اور ان کے لئے بھی یورپ اور امریکہ سے ہتھیار خریدا جاتا ہے۔ جب ہم مسلمانوں کے زوال کے اسباب کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہماری سوچ اغیار کی سازش اور اسلام دشمنوں کی فتنہ پروری کے گرد ہی گھومتی ہے اور ہمیں اپنی کمیوں کا احساس و ادراک نہیں ہوتا ہے ۔ اس سے بڑا اور المیہ کیا ہوسکتا ہے کہ جس قوم کو اللہ نے تمام قسم کے وسائل سے نواز ا ہو وہ اپنی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے بھی دوسروں کی دست نگر بنی رہے۔ کہنے کو تو چار درجن سے زائد چھوٹی بڑی مسلم حکومتیں ہیں لیکن وہ اپنے تحفظ کے لئے مکمل طور پر مغرب پر منحصر ہیں ۔ انہیں نہ اپنی کوتاہیوں کا احساس ہے اور نہ اپنے خلاف ہونے والی سازشوں کا ادراک ۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ اپنی دولت کی قدر و قیمت کو سمجھتے جس سے نہ صرف ان کا اپنا وجود محفوظ رہتا بلکہ دوسرے بھی ان کے دامن عافیت میں پناہ لیتے ۔ آج مسلم ممالک کو ان کی غفلت اور کوتاہیوں نے اس مقام پر لاکھڑا کر دیا ہے جہاں سب کچھ ہونے کے باوجود وہ خود کفیل نہیں بن سکے اور ایک طرح سے امریکہ کے محتاج اور تابعدار بن کر رہنے پر مجبور ہیں اور وہ انہیں یہ احساس دلانے میں کامیاب ہوگیا ہے کہ انہیں اپنے تحفظ کے لئے اس کی ضرورت ہے ۔ امریکہ نے پوری طرح ان پر اپنا تسلط قائم کر لیا ہے اور وہ مطمئن ہیں کہ ان کی سلامتی اور تحفظ کی ضمانت دنیا کے سپر پاو ر نے لے رکھی ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اگر امریکہ کو اپنے مفاد کی تکمیل میں رکاوٹ محسوس ہوئی تو اسی کے ذریعہ جمہوریت کے نام پر ان حکمرانوں کے تاج اچھالے جائیں گے جس کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے ۔ اس لئے یہ ضروری ہوگیا ہے کہ مسلم ممالک نوشتہدیوار پڑھ لیں اور اللہ نے انہیں جو دولت عطا کی ہے اس کا صحیح استعمال کرتے ہوئے خود کو اور دنیا بھر کے مسلمانوں کو سر اٹھاکر جینے کا موقع فراہم کریں ۔ ان کی بھلائی اسی میں ہے کہ جس قدر ممکن ہو امریکہ اور یورپ پر انحصار ختم کرکے خود کفیل بننے کی کوشش کریں۔ اگر دوسری جنگ عظیم کے موقع پر پورے طور پر تباہ ہوچکے جاپان اور جرمنی ترقی کر سکتے ہیں تو یہ کیوں نہیں کر سکتے ۔ اپنی دولت کو اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کے لئے خرچ کریں ۔ مسلمان سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں مغربی اقوام سے نہ صرف بہت پیچھے ہیں بلکہ ان کی نقالی کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہیں ۔ کیا بہتر ہوتا کہ وہ دولت جو عشرت سامانیوں اور جھوٹی نمائشوں پر خرچ کی جارہی ہے ان کے ذریعہ سائنس اور ٹکنالوجی کے اعلیٰ ترین مراکز کا قیام عمل میں لایا جاتا ۔ اطلاعاتی عسرت اور ابلاغی غربت مسلمانوں کے ماتھے کا بد نما داغ ہے جب کہ آج کے دور میں اس کے بغیر ترقی کا خواب بھی نہیں دیکھا جاسکتا ۔ اگر دولت کا صحیح استعمال کیا جائے تو مسلمانوں کے ماتھے سے یہ داغ بآسانی دھل سکتا ہے ۔ یوں بھی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کئے جارہے حملوں اور پروپیگنڈوں کا جواب دینے کے لئے یہ بیحد ضروری ہے ۔ مسلمانوں کے پاس مادی وسائل کے علاوہ سب سے مضبوط چیز ان کا نظریہ ہے ۔ اگر انہیں اس کی قدر و قیمت کا احساس ہوجائے اور وہ تقاضائے وقت کے مطابق سائنس او ر ٹکنالوجی کو تعمیر انسانیت کے لئے استعمال کریں تو مغربی طاقتوں کو اپنے آگے گھٹنوں کے بل جھکا سکتے ہیں ۔
                آج جب دنیا ہر روز ترقی کے نئے باب لکھ رہی ہے ، مسلمان اس سے بے پروا اپنی دولت اور اپنا سرمایہ فضولیات میں صرف کر رہے ہیں ۔ وہ یا تو آپسی جنگ و جدال میں مصروف ہیں یا عیش و نشاط میں مشغول ہیں اور یہ فرد سے لے کر جماعت اور حکومتوں تک کا یکساں رویہ ہے ۔ خود ہمارے ملک میں مسلمان جھوٹی شان و شوکت کے مظاہروں میں جتنی دولت خرچ کرتے ہیں شاید اس کا نصف بھی تعمیری کاموں میں صرف نہیں ہوتا ۔ ابھی چند ماہ قبل بہار کے ایک مسلم ممبر اسمبلی نے اپنی شادی میں چند کیلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے لئے ہیلی کاپٹر کا استعمال کیا ۔ ہماری قوم کا مزاج یہ ہے کہ جو لوگ اپنے بچوں کی تعلیم کے لئے حیثیت کے باوجود خرچ کرنا گوار ا نہیں کرتے وہ ان کی شادیوں میں نمائش کے لئے سود لینے او رزمینیں بیچنے سے بھی گریز نہیں کرتے ۔ باہمی اختلاف ہمارا طرئہ امتیا زہے اور بے عملی ہمارا جوہر ۔ ان حالات میں عزت و وقار کی زندگی کے خواب دیکھنا احمقوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے ۔ مسلمانوں کے لئے عظمت رفتہ کی واپسی کی واحد صورت یہی ہے کہ وہ علوم و فنون سے اپنا رشتہ مضبوط کریں ، اپنے اندر اتحاد پیدا کریں ، اپنی دولت ، سرمایہ اور توانائیوں کو فضولیات میں خرچ کرنے کی بجائے تعمیری کاموں میں لگائیں او ر تمام اختلافات کو مٹاکر ایک امت کا تصور پیدا کریں ۔ یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اگر اللہ کی دی ہوئی دولت کی ناقدری کی جاتی ہے تو وہ وبال جان بن جاتی ہے ۔ 

بدھ، 1 جنوری، 2014

ہر چہ در کان نمک رفت نمک شد

ہر چہ در کان نمک رفت نمک شد
افواہوں کے پھیلنے کی رفتار صحیح خبروں سے زیادہ تیز ہوتی ہے اور ترسیل وابلاغ کے جدید ذرائع نے اسے اور آسان بنادیا ہے چنانچہ تجارت سے لے کر سیاست اور صحافت تک ہر میدان میں افواہ پھیلانے اور بد امنی پیدا کرنے کے لیے ان کا استعمال کیا جارہا ہے۔
 افواہ پھیلانے کا کام محض شر پسند عناصر ہی نہیں کرتے بلکہ اس سلسلہ میں ہمارا با وقار قومی میڈیا سب سے آگے ہے ۔ میڈیا میں فسادات سے لے کر دہشت گردانہ واقعات تک کی رپورٹنگ جس انداز میں کی جاتی ہے اور جس طرح حقائق کو نظر انداز کیا جاتا ہے اس کی مثال کہیں اور نہیں مل سکتی۔ ایک خاص فرقے کے خلاف اخبارات میں ایسے ایسے من گھڑت افسانے شائع کئے جاتے ہیں کہ الامان و الحفیظ ۔ جہاں جمہوریت کے چوتھے ستون کا یہ عالم ہو وہاں بے ایمان تاجروں اور منافع خوروں کے ذریعہ قلت نمک کی افواہ نہ بعید از قیاس ہے نہ حیرت انگیز۔
                                                                                                                         
                چند دنوں قبل بہار میں بڑے ہی منظم انداز میں یہ افواہ پھیلائی گئی کہ ریاست میں نمک کی قلت پیدا ہوگئی ہے ۔ اس لئے نمک مہنگا ہورہا ہے۔ دیکھتے ہیں دیکھتے دوکانوں پر بھیڑ لگنے لگی اور جسے جتنی مقدار میں نمک ملا خریدنے لگا اور پھر جلد ہی بازار سے نمک غائب بھی ہوگیا اور تاجروں نے نمک کی ذخیرہ اندوزی کرلی۔ نمک کی قیمت میں بھی اضافہ ہوگیا اور ۸۰؍ سے ۱۰۰؍ روپے کیلو تک نمک کی فروخت ہوئی ۔ اس افواہ کا اثر شمالی مشرقی ریاستوں تک ہوا۔ شکر ہے کہ حکومت فوراً حرکت میں آگئی جس کی وجہ سے جلد ہی افراتفری کا ماحول ختم ہوگیا۔ اس سلسلہ میں ریاست بھرمیں۲۱؍ افراد گرفتار کئے گئے اور ۱۵ ؍مقدمات درج کئے گئے۔
                قلت نمک کی افواہ منافع خور تاجروں کی منظم سازش ہوسکتی ہے کیونکہ اتنے بڑے پیمانہ پر ایسی افواہ بغیر منصوبہ بندی کے نہیں پھیلائی جاسکتی ۔ ایسے ماحول میں جہاں زندگی کا مقصد محض دولت حاصل کرنا رہ گیا ہو، کچھ بھی ممکن ہے۔ یوں بھی ہمارے یہاں تجارت میں ایمانداری کے علاوہ سب کچھ جائز ہے۔ اس وقت مہنگائی جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اس کا سبب پیداوار میں کمی نہیں بلکہ منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کی یہی ذہنیت ہے۔ اشیائے خوردنی کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کی وجہ سے ہی شاید لوگوں نے بآسانی اس افواہ پر یقین بھی کرلیا۔اس افواہ پر یقین کرنے میں پیاز کی مہنگائی بھی ایک اہم وجہ رہی۔ حالانکہ پیازبھی جس طرح سے ملک بھر میں مہنگی ہوئی اور اب بھی اس کی قیمت معمول پر نہیں آسکی ہے، اس میں بھی ذخیرہ اندوزی اور افواہ کے اثر سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ اس کا جواز یہ بھی ہے کہ پچھلی مرتبہ اقتدار سے بی جے پی کی بے دخلی کا سبب پیاز کی قیمت میں اضافہ رہا تو عین ممکن ہے کہ منصوبہ بند طریقے سے پیاز کی ذخیرہ اندوزی کر کے یہ افواہ گشت کرائی گئی ہو اور پھر نمک پر بھی اس کا تجربہ کیا گیا ہو۔ بہر حال قلت نمک کی افواہ کا سبب کچھ بھی ہو ، اس پورے واقعہ سے ایک بات بہت واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ ہمارے ملک میں افواہ پھیلا کر بد امنی اور انتشار پیدا کرنا کتنا آسان کام ہے۔ افواہوں کے پھیلنے کی رفتار صحیح خبروں سے زیادہ تیز ہوتی ہے اور ترسیل وابلاغ کے جدید ذرائع نے اسے اور آسان بنادیا ہے چنانچہ تجارت سے لے کر سیاست اور صحافت تک ہر میدان میں افواہ پھیلانے اور بد امنی پیدا کرنے کے لیے ان کا استعمال کیا جارہا ہے۔ قارئین اچھی طرح واقف ہیں کہ مظفر نگر میں رونما ہونے والے فسادات بھی افواہ ہی کے نتیجہ میں پھیلے ۔ بی جے پی لیڈران کی اشتعال انگیز تقریروں کے علاوہ سوشل میڈیا کے ذریعہ نقلی ویڈیو کی تشہیر نے جلتی پر گھی کا کام کیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دو ماہ قبل ہونے والے فسادات کی چنگاری اب بھی سرد نہیں ہوئی ہے اور افواہ کی تھوڑی سی ہوا بھی اس چنگاری کو شعلہ میں بدل دیتی ہے۔ اس افواہ کے نتیجہ میں سیکڑوں جانیں گئیں ، لاکھوں بے گھر ہوگئے ، ان کے مکانات کو جلادیا گیا اور اراضی پر قبضہ کر لیا گیا ۔ اب بھی ہزاروں افراد پناہ گزیں کیمپوں میں کس مپرسی کی زندگی گزار رہے ہی اور خوف کے مارے اپنے گھروں کو واپس جانے کو تیار نہیں ہیں۔ افواہ پھیلانے کا کام محض شر پسند عناصر ہی نہیں کرتے بلکہ اس سلسلہ میں ہمارا با وقار قومی میڈیا سب سے آگے ہے ۔ میڈیا میں فسادات سے لے کر دہشت گردانہ واقعات تک کی رپورٹنگ جس انداز میں کی جاتی ہے اور جس طرح حقائق کو نظر انداز کیا جاتا ہے اس کی مثال کہیں اور نہیں مل سکتی۔ ایک خاص فرقے کے خلاف اخبارات میں ایسے ایسے من گھڑت افسانے شائع کئے جاتے ہیں کہ الامان و الحفیظ ۔ جہاں جمہوریت کے چوتھے ستون کا یہ عالم ہو وہاں بے ایمان تاجروں اور منافع خوروں کے ذریعہ قلت نمک کی افواہ نہ بعید از قیاس ہے نہ حیرت انگیز۔
                ملک کے مسلمان سماجی ، معاشی اور سیاسی طور پر کتنے ہی پسماندہ کیوں نہ ہوں لیکن انہیں بزعم خود اپنے کردار کی بلندی کا دعوی ہے اس لئے کہ ان کی وابستگی ایسے مذہب سے ہے جس میں کردار کی بڑی اہمیت ہے۔ لیکن افواہ کے اس بہاؤ میں وہ بھی بہہ گئے۔ نہ صرف بہہ گئے بلکہ بہتی گنگا میں ہاتھ بھی دھویا۔ یعنی افواہوں پر یقین کرنے میں نہ مسلمان پیچھے رہے نہ غیر مسلم ۔ اسی طرح نمک کو مہنگے داموں میں فروخت کرنے میں بھی مکمل قومی یکجہتی کا ثبوت دیا گیا ۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اولا مسلمان اس افواہ پر یقین ہی نہیں کرتے کیونکہ ان کے مذہب کی تعلیم یہ ہے کہ خبروں کو پھیلانے سے پہلے اس کی تصدیق کر لی جائے۔ اس کی تعلیمات میں یہ بھی شامل ہے کہ آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنی بات کافی ہے کہ وہ جو کچھ سنے اسے بیان کردے ۔ جبکہ منافع خوری اور ذخیرہ اندازی اس مذہب میں حرام قرار دیئے گئے ہیں اور ایسا کرنے والوں کے لیے سخت وعیدیں ہیں۔ ان سب کے باوجود مسلماوں نے بھی وہی کیا جو سبھوں نے کیا۔ حتی کہ اس معاملہ میں عالم وجاہل کی تمیز بھی نہ رہی۔
                مسلمانوں اور دوسرے مذاہب کوتسلیم کرنے والوں کے درمیان فرق صرف مراسم عبودیت میں رہ گیا ہے جبکہ اخلاق ومعاملات میں سب یکساں ہیں ۔ حالانکہ ہر معاملہ میں مسلمانوں کی امتیازی شان ہونی چاہیے۔ زیادہ عرصہ نہیں گذرا جب عام طور سے لوگ کہتے تھے کہ مسلمان جھوٹ نہیں بولتا لیکن اب مسلمانوں کی کسی بات پر یقین کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ پہلے غیر مسلم اپنی امانتیں مسلمانوں کے پاس رکھتے تھے لیکن اب یہ اعتماد بھی باقی نہ رہا۔ اخلاق و معاملات کی وہ کون سی خرابی ہے جو مسلمانوں میں موجود نہیں ہے۔ ہم مسلمانوں
کی پسماندگی کے اسباب کا تجزیہ کرنے بیٹھتے ہیں تو ہمیں بے شمار اسباب نظر آتے ہیں لیکن جس اہم سبب کی طرف ہماری نظر نہیں جاتی وہ در اصل یہی کردار کی خرابی ہے۔ کردار کی عظمت ہی انہیں دونوں جہاں میں سر خروئی سے سر فراز کرسکتی ہے۔ یہ سرا ہاتھوں سے نکل گیا تو ساری خرایباں آگئیں ا ور آج صورتحال یہ ہے کہ وہ ہر میدان میں پسماندگی کے شکار ہیں اور انہیں سچر کمیٹی کا آئینہ دکھایا جارہا ہے۔ اس وقت ملک میں جس طرح مسلمانوں کے خلاف پروپگنڈہ مہم جاری ہے اور انہیں غیر مہذب ، غیر روادار یہاں تک کہ دہشت گرد کے طور پر پیش کیا جارہا ہے اور ان کے خلاف نفرت کی جو آگ بھڑکائی جارہی ہے، مسلمان اپنے کردار کی بلندی سے ہی ان پر قابو پاسکتے ہیں۔ یہی وہ شاہ کلید ہے جس سے ان کی تعمیروترقی کے تمام بند دروازے وا ہوسکتے ہیں۔ اس سے صرف نظر کر کے جو کوشش ہوگی وہ بار آور نہیں ہوگی کیونکہ ع خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی۔
٭٭٭

ہفتہ، 28 دسمبر، 2013

پٹنہ بم دھماکہ اور مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں

پٹنہ بم دھماکہ اور مسلم نوجوانوں کی گرفتاریاں
سوال صرف گرفتاریوں پر نہیں ‘دھماکوں پر بھی اٹھ رہے ہیں

                فسادات اور دہشت گردی کے دو پاٹوں کے درمیان پس رہے مسلمانوں کی آزمائشوں کا سلسلہ ختم ہونے کی بجائے بڑھتا ہی جارہا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی دوسری بڑی اکثریت کے ساتھ آزادی کے بعد سے ناروا سلوک کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ نہ صرف ہنوز جاری ہے بلکہ اس میںمزید شدت آگئی ہے۔ کہنے کو تو یہاں آئین کی حکمرانی ہے جو بلا تفریق مذہب وملت اور رنگ ونسل سب کو یکساں حقوق فراہم کرتا ہے اور کسی طرح کی تفریق کی اجازت نہیں دیتا لیکن عملاً مسلمانوں کے ساتھ ہمیشہ امتیازی سلوک روا رکھا گیا اور منظم انداز میں اس بات کی کوشش کی گئی کہ اس ملک کے مسلمان کبھی سر اٹھا کر نہ جی سکیں اور دوسرے درجہ کے شہری بننے پر مجبور ہوجائیں۔ اس امر کو یقینی بنانے کے لیے فرقہ پرست طاقتوں ِ ،خفیہ ایجنسیوں اور میڈیا کے مثلث نے ایڑی چوٹی کا زور لگا رکھا ہے۔
                یہ بات واضح ہے کہ دہشت گردی کے نام پر مسلمانوں کی شبیہ داغدار کرنے اور ان کے نوجوانوں کی گرفتاریوںکے لیے منظم منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور ان علاقوںکو بطور خاص نشانہ بنایا جاتا ہے جہاں عام طور پر مسلمان خوش حالی کی زندگی بسر کر رہے ہوں۔ گذشتہ دنوں پٹنہ کے گاندھی میدان میں بی جے پی کی ہنکار ریلی کے دوران ہونے والے بم دھماکوں نے یہ بات ایک بار پھر ثابت کردی ہے اور جس انداز میں مقامی پولیس اور خفیہ ایجنسیوں نے مسلم نوجوانوں کی دھر پکڑ شروع کردی ہے اس نے پھر مسلمانوں کی نیندیںحرام کردی ہیں۔ یہ دھماکہ اس لحاظ سے اپنی نوعیت کا پہلا دھماکہ ہے کہ اس میں واقعہ کے فورا بعد پولس نے سازش کے اہم ملزمین کو گرفتار کرلیاجنہوں نے اعتراف جرم بھی کرلیا اور انہیں یہ بتانے میں بھی دیر نہیں لگی کہ ان دھماکوں کے پیچھے انڈین مجاہدین کا ہاتھ ہے۔پولیس کے بیانات کے مطابق گرفتار شدگان کی اطلاع کی بنیاد پر دیگر کئی نوجوانوں کو بھی گرفتار کرلیا گیا ہے اور بقیہ ملزمین کی گرفتاری کے لیے چھاپہ ماری جاری ہے، اس کے ساتھ ہی مہا بودھی مندر بلاسٹ کا معاملہ بھی سلجھ گیا کہ اسی گروپ نے بودھ گیا بلاسٹ بھی کیا تھا، لاج میں چھاپہ ماری کے دوران بموں کے علاوہ کئی مذہبی مقامات کے نقشے بھی برآمد ہوئے ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ دہشت گرد کئی مقامات پر حملے کرنے کا منصوبہ رکھتے تھے۔ واضح ہوکہ اس بار دھماکوں کی سازش کا مرکز دربھنگہ اور مدھوبنی کے بجائے رانچی قرار دیا گیا لیکن گرفتار شدگان میں دربھنگہ کے نوجوان بھی شامل ہیں۔
                ملک بھر میں رونما ہونے والے دہشت گردانہ واقعات کے بعد ہونے والی گرفتاریوں پر مسلمانوں اور انصاف پسند عوام کی جانب سے سوال اٹھائے گئے ہیں لیکن پٹنہ دھماکوں میں سوال صرف گرفتاریوں پر نہیں بلکہ دھماکوں پر بھی اٹھ رہے ہیں۔ پولیس اور میڈیا نے بھلے ہی حسب معمول اپنے طور پر عدالتی عمل شروع ہونے سے قبل ہی پکڑے گئے نوجوانوں کا جرم ثابت کردیا ہے لیکن اس بار ان کی تھیوری کی تصدیق بھولے بھالے لوگوں کے لیے بھی مشکل ہورہی ہے۔ کئی سوالات ایسے ہیں جن کا جواب پائے بغیر اسے نام نہاد انڈین مجاہدین (اگر اس کا واقعی وجود ہے) کی کارستانی قرار دینا آسان نہ ہوگا۔ سب سے بڑا سوال تو یہ ہے کہ سیکوریٹی کے اتنے سخت انتظام کے باوجود دہشت گردوں کو یہ موقع کیسے ملا کہ نہ صرف یہ کہ بم لے کر اندر داخل ہوئے بلکہ پے در پے چھ دھماکے کرنے میں بھی کامیاب ہوگئے۔ پھر یہ کہ مسلسل دھماکے ہوتے رہے نہ کسی قسم کی افرا تفری ہوئی اور نہ کوئی بھگڈر مچی اور نہ ہی ریلی میں کوئی رخنہ پڑا۔ حد تو یہ ہے کہ بی جے پی کے وزیر اعظم کے امیدوار نریندر مودی نے ایک گھنٹہ تک دھواں دھار تقریر کی لیکن اس دوران ایک بار بھی ان دھماکوں کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی دھماکوں میں اپنی جان سے ہاتھ دھونے والوں کے لیے ہمدردی کے چند کلمات کہے جبکہ چار پانچ دنوں بعد ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرنے کے لیے پھر بہار کا دورہ کیا۔ یہ وہ سوالات ہیں جو یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ یہ دھماکے خود فرقہ پرستوں نے کرائے ہیں تاکہ اس کی بنیاد پر فرقہ وارانہ خطوط پر سماج کو تقسیم کر کے اپنے لیے اقتدار کی راہ آسان بنائی جائے۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ دھماکہ جو بھی کرنے اس کا الزام انڈین مجاہدین کے سر ہی جائے گا۔ اور شاید اسی لیے اس نام نہاد انڈین مجاہدین کا عفریت پیدا بھی کیا گیا ہے۔ ذہن نشین رہے کہ ریلی کے لیے حکومت کے حفاظتی انتظامات کے علاوہ خود بی جے پی نے بھی ایک پرائیویٹ سیکوریٹی ایجنسی کی خدمات حاصل کر رکھی تھی۔ اس معاملہ کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ دوران تقریر نریندر مودی نے کہا کہ کچھ لوگوں نے ان کے نام کی سپاری لے رکھی ہے تو دوسری جانب بی جے پی نے ریاستی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے آئی بی کے الرٹ کے باوجود سیکوریٹی کے پختہ انتظامات نہیں کئے ۔ ہمیں نہیں معلوم کہ آئی بی نے یہ الرٹ بھیجا تھا یا یہ بات اس لیے دہرائی جارہی ہے کہ تاکہ خفیہ ایجنسیاں انڈین مجاہدین والی اپنی لائن پر قائم رہیں اور ہندو دہشت گرد تنظیموں کی طرف ان کی توجہ نہ ہو۔ البتہ ہمیں یہ ضرور معلوم ہے کہ مئی میں گجرات آئی بی نے ملک کی تمام خفیہ ایجنسیوں کو بتایا تھا کہ ریلی میں ہندو انتہا پسند تنظیموں کی جانب سے مودی کی ریلی میں کم طاقت کے دھماکے کرنے کا اندیشہ ہے۔ ایک بہت بڑا سوال ہے کہ اس الرٹ کے باوجود ہماری خفیہ ایجنسیوں کی نگاہیں اس جانب کیوں نہیں اٹھ رہی ہیں اور دیگر سیاسی جماعتیں کیوں خاموش ہیں؟
                اس بار دھماکوں کی سازش کا مرکز رانچی قرار دیا گیا ہے لیکن گرفتاریوں کا سلسلہ بہار کے دربھنگہ ، مظفر پور اور موتیہاری تک دراز ہے اور اس کا اثر بہار کی طرح پورے جھارکھنڈ کے مسلمانوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔ دربھنگہ سے گرفتار مہر عالم کی صورتحال غیر یقینی ہے۔ اسے اس کے اہل خانہ کے ذریعہ گیا بلایا گیا لیکن پٹنہ میں اسے روک کر اس کے اہل خانہ کو واپس جانے کے لیے کہا گیا ۔ پھر خبر دی گئی کہ مہر عالم مظفر پور سے این آئی اے کو چکمہ دے کر فرار ہوگیا پھر آنا فانا چند گھنٹوں میں اسے کانپورمیں دھر دبوچا گیا۔ اس کے اہل خانہ کو ۳؍ نومبر کو اطلاع دی گئی کہ مہر عالم کو چھوڑ دیا گیا ہے لیکن یہ تحریر لکھے جانے تک وہ گھر نہیں پہنچا ہے۔ دریں اثنا جھارکھنڈ پولیس کے مطابق اس نے رانچی کے ایک لاج سے ۹؍ بم برآمد کئے ہیں اور یہ بم ویسے ہی ہیں جن کا استعمال پٹنہ میں کیا گیا۔ دوسری جانب ذرائع ابلاغ کے مطابق شمالی بہار کے سمستی پور ریل ڈویزن کے مختلف اسٹیشنوں پر بھی مبینہ خطروں کے پیش نظر سیکوریٹی سخت کردی گئی ہے۔ اس کی خبر میڈیا بطور خاص ہندی میڈیا میں جس طرح دی گئی ہے اس سے سنسی پھیل گئی ہے اور ہر داڑھی ٹوپی والا مشکوک نگاہوں سے دیکھا جانے لگا ہے۔
                بہر حال اب نہ تو دہشت گردانہ کارروائی نئی بات ہے اور نہ اس کے ضمن میں مسلم نوجوانوں کی گرفتاریوں میں کچھ نیا ہے۔ نئی بات صرف یہ ہے کہ یہ بہار کی پر امن فضا کو بگاڑنے کی فرقہ پرستوں کی سازش ہے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی کسی نہ کسی صورت میں جاری رہے گا ۔ جس طرح ان دھماکوں کو مظفر نگر فساد کے رد عمل کے طور پر پیش کئے جانے کی کوشش ہورہی وہ فرقہ وارانہ یکجہتی کو ختم کرنے کی منظم سازش ہے۔ اس سے قبل مہابودھی مندر میں ہونے والے دھماکوں کے تار بھی میا نمار میں بودھوں کے ذریعہ مسلمانوں کے قتل عام سے جوڑے گئے تھے۔ فرقہ پرست طاقتیں مذہبی منافرت پھیلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے۔ آئندہ عام انتخابات کے پیش نظر بہار کی پر امن فضا میں فرقہ واریت کا زہر گھولنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ یہ سارا کھیل مرکز کا اقتدار حاصل کرنے کے لیے کھیلا جارہا ہے۔ پٹنہ جیسے دھماکے کہیں بھی اور کبھی بھی ہوسکتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں بطور خاص فرقہ پرستوں کے ذریعہ لاشوں کی سیاست کی روایت بہت قدیم ہے۔ جنتا دل متحدہ اور بی جے پی کی طلاق سے ریاست میں نئی صورتحال پیدا ہوگئی ہے اور اس وقت فرقہ پرستوں کی ساری توجہ بہار پر ہے۔ لالو پرساد کے میدان سے غائب ہونے کے سبب ان کے حوصلے مزید بلند ہیں۔ نیش کمار نے ۱۷؍برسوں تک فرقہ پرستوں کے ساتھ وفاداری نبھائی تو یہ سوچا سمجھا فیصلہ تھا اور آج ترک تعلق بھی بغیر سوچے سمجھے نہیں کیا ہے۔ سیاست کے کھیل بڑے نرالے ہوتے ہیں۔ لیکن ریاست کے وزیر اعلی کی حیثیت سے ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ بہار کے پر امن ماحول کو فرقہ پرستی کے عفریت سے بچائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ بے قصوروں کی اندھا دھند گرفتاریوں پر لگام لگے۔

                موجودہ وقت مسلمانوں کے لیے بڑا ہی پر آشوب ہے۔ دہشت گردانہ واقعات ہوں یا فرقہ وارانہ فسادات ان کا فائدہ کوئی بھی اٹھاسکتا ہے لیکن ان کی مار مسلمانوں کو ہی جھیلنی پڑتی ہے۔ اس لیے انہیں نہ صرف ہوشیار رہنا ہوگا بلکہ آگے بڑھ کر ایسے اقدام کرنے ہوں گے جن سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ماحول قائم ہو۔ ملک اور ریاست کی اکثریت سیکولر ہے۔ مسلم قائدین کو سیکولر افراد کے ساتھ مل کر فرقہ پرستی کے ناگ کو کچلنے کی سعی کرنی ہوگی۔ ساتھ ہی سیاسی جماعتوں پر واضح کرنا ہوگا کہ کوئی بھی جماعت انہیں اپنی جاگیر نہ سمجھے۔ ہماری وفاداری اسی جماعت کے ساتھ ہوگی جو ہمیں تحفظ فراہم کرسکے اور ہمارے مفادات کی نگرانی کرسکے۔ غرض کہ موجودہ صورتحال سے نجات اسی وقت حاصل ہوسکتی ہے جب مسلمان حالات کو سمجھیں ، فرقہ پرستوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور بصیرت اور حکمت عملی سے اپنے مسائل کے حل کے لیے کمر بستہ ہوجائیں ۔ یہ کوئی دوسرا نہیںکرے گا لیکن سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ہم ایسا کریں گے؟ اگر اس کا جواب نفی میں ہے تو پھر سمجھ لینا چاہیے کہ بربادی ہمارا مقدر بن چکی ہے۔